’افغانستان کا مستقبل، اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغانستان کا مستقبل، اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ بھی بھارت پہنچنے والے ہیں۔

دونوں رہنماوں کے مابین تفصیلی ملاقات کے بعد ان کی میڈیا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ بعدازاں ایک حکومتی بیان جاری کیا گیا، جس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی سیاست ، عالمی امور اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا عزم بھی دہرایا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں بشمول افغان دفاعی افواج اور سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دینے کے لئے ہندوستان کے تعاون کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے افغان دفاعی افواج اور پولیس فورسز کو ضرورت کے مطابق مزید مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بیان میں بامعنی ترقی اور دیر پاامن کے لئے تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت افغانستان میں سیاسی مفاہمت کی کوششوں اور افغان قیادت کے ذریعے ہی افغانیوں کے لئے خود فیصلہ کرنے کی حمایت کرتا ہے۔

امريکی وزير خارجہ کا دورہ پاکستان اور بھارت، کسے کيا ملے گا؟
افغان صدر کا یہ ایک روزہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے، جب امریکا، چین، پاکستان اور افغانستان کی گزشتہ ہفتے مسقط میں میٹنگ ہوئی تھی۔ یہ گروپ طالبان اور کابل کے درمیان براہ راست بات چیت کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اسے ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ کابل اور طالبان کے درمیان امن بات چیت کے لئے اسی طرح کی ایک اور کوشش روس، پاکستان اور چین بھی کر رہے ہیں۔


افغان صدر وزیر اعظم مودی کی دعوت پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔ اس سے قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سولہ اکتوبر کو کابل گئے تھے اور مسٹر غنی کو مسٹر مودی کی طرف سے دعوت نامہ دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ گزشتہ ماہ کے اوآخر میں اور وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی ستمبر کے اوائل میں دہلی کا دورہ کر چکے ہیں۔
بھارت افغانستان کو اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے۔ اس نے جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لئے 3.1 بلین ڈالر کی امداد دی ہے۔ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے گزشتہ ماہ بھارت نے افغانستان میں ایک سو سولہ نئے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اگست میں جب نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا تھا تو بھارت کو اس میں ’بڑا کردار‘ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ بھارت نے افغانستان میں اپنی فوج بیجھنے سے انکار کر دیا تھا البتہ وہ افغانستان میں ترقی اور باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’بھارتی فوجی بوٹوں کی چاپ افغان سرزمین پر سنائی نہیں دے گی‘
بھارتی اسٹریٹیجک تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ معروف تھینک ٹینک وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن سے وابستہ پاک افغانستان امور کے ماہر سشانت سرین کا اس حوالے سے کہنا تھاکہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں جو متعدد سفارتی کوششیں جاری ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان نہایت گہرا ربط ہے اور اشرف غنی کا یہ دورہ بھی اسی صورت حال کا مظہر ہے۔


سشانت سرین کا مزید کہنا تھا، ’’افغانستان کے سلسلے میں روس کے خصوصی سفیر ضمیرکابلوف صلاح و مشورے کے لئے ستمبر میں نئی دہلی آئے تھے۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ اب جب بھی افغانستان کے مستقبل کے سلسلے میں کوئی بات ہو گی تو بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان، امریکا اور روس کے نئی دہلی کے یہ دورے پاکستان کے لئے یہ پیغام بھی ہے کہ جب بھی افغانستان کے مستقبل کی بات ہوگی تو بھارت بھی اس میں شامل رہے گا۔‘‘
قبل ازیں نئی دہلی پہنچنے کے بعد افغان صدر نے اپنے بھارتی ہم منصب رام ناتھ کووند سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی۔ راشٹرپتی بھون سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’بھارت امن قائم کرنے کی افغانستان کے عوام کی امنگوں کا پوری طرح ساتھ دیتا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں وہ خود افغانستان کی قیادت میں کئے جائیں اور ان پر افغانستان کا کنٹرول ہو۔‘‘ افغان صدر نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بھی ملاقات کی۔
دریں اثنااشرف غنی کی آج شام دہلی سے روانگی کے چند گھنٹے بعد ہی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھارتی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ پچھلے ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھی نئی دہلی آئے تھے اور افغانستان کے استحکام میں مدد کے لئے بھارت سے زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

DW.COM