1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کا ایک اور سیاسی بحران

افغانستان میں صدر حامد کرزئی کی نامزد کردہ کابینہ میں سے بیشتر نام مسترد کئے جانے کے بعد ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

default

افغان ارکان پارلیمان نے گزشتہ روز رائے شماری میں کرزئی کے نامزد کردہ چوبیس وزراء میں سے محض سات کی حمایت کی جبکہ بقیہ سترہ کو مسترد کردیا۔ پارلیمان کے اس فیصلے سے شورش زدہ ملک میں پہلے سے موجود بحرانی سیاسی صورتحال پر مزید منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔

کرزئی کی نئی کابینہ کے بیشتر وزراء مسترد کئے جانے کے بعد افغانستان میں اب دراصل، عملی طور پر کوئی مؤثر حکومت موجود نہیں۔ اگست کے متنازعہ انتخابات کے بعد سے پیدا شدہ سیاسی خلاء تا حال قائم ہے جس میں وزارتوں کا نظام نچلی سطح کے بیوروکریٹس چلا رہے ہیں جن کے پاس اختیارات کی بے انتہا کمی ہے اور کوئی جامع منصوبہ بھی نہیں۔

Afghanistan Wahlen Harmid Karsai Pressekonferenz in Kabul

افغان صدر حامد کرزئی، نائب صدور قاسم فہیم اور عبدالرحیم خلیلی، فائل فوٹو

آج ہی کابل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی ایڈی نے افغان پارلیمان کے گزشتہ روز کے فیصلے کو ملک کے لئے بہت بڑا سیاسی دھچکہ قرار دیا ہے ۔ ان کے بقول افغانستان میں بڑے پیمانے پر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاہم عملی طور پر حکومت نہ ہونے کے باعث ایسا فی الحال نہیں ہو پا رہا۔

کرزئی کے سابقہ حریف صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے بھی کرزئی کی تجویز کردہ کابینہ پر انگلی اٹھاتے ہوے ملکی صدر پر تنقید کی ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کے بقول پارلیمان نے واضح طور پر صدر حامد کرزئی پر عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار نو سو سے زائد ارکان نے کرزئی کی تجویز کردہ کابینہ کے خلاف ووٹ دیا ہے اور اب ملک کو درپیش مسائل میں بلاشبہ مزید اضافہ ہوگا۔

افغان پارلیمان نے البتہ داخلہ، دفاع، خزانہ، تعلیم اور زراعت کے وفاقی وزراء کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ ملکی دستور کے مطابق مسترد کئے گئے وزراء کے نام دوبارہ اسی وزارت کے لئے تجویز نہیں کئے جاسکتے۔ افغان پارلیمان میں منگل سے پینتالیس روزہ سرمائی تعطیلات ہوجائیں گی۔

UAMA Pressekonferenz in Kabul, Afghanistan

کائی ایڈی، فائل فوٹو

مبصرین کے مطابق صدر کرزئی نے کابینہ کے لئے نام منتخب کرتے وقت مغربی ممالک اور ملک کے اندر کی با اثر سیاسی قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔ بعض مبصرین کے مطابق کابینہ ارکان کے نام مسترد کئے جانے کی وجہ افغانستان کا غیر منظم سیاسی نظام بھی ہے جہاں مؤثر سیاسی جماعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ارکان پارلیمان نے کابینہ سے متعلق اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر رائے دی۔

واضح رہے کہ نئی افغان کابینہ کے بیشتر نام، ملکی پارلیمان نے ایسے وقت میں مسترد کردئے ہیں جب صدر حامد کرزئی چند ہی ہفتوں بعد، لندن منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM