1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان کا انتخابی تنازعہ، حل جلد متوقع

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوماہ گزر جانے کے بعد، ابھی تک حتمی فاتح کا اعلان نہیں جا سکا۔ تاہم اب اس تنازعے کے جلد حل کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

default

نتائج میں تاخیر کی صورتحال اور تنازعے کے حل کے لئے کئی عالمی رہنما بھی اِس وقت کابل میں موجود ہیں اور اُن کا مقصد دونوں بڑے صدارتی امیدواروں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہے۔

UN-Generalsekretär Ban Ki Moon vor der Vollversammlung

بان کی مون نے کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے فون پر بات کی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت اہم عالمی رہنماؤں نے افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے انتخابی حریف عبداللہ عبداللہ سے فون پر بات کی ہے۔ ان میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، پاکستانی صدر آصف زرداری اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارد کوشنیر، امریکی سینیٹر جان کیری اور سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد بھی افغانستان میں موجود ہیں، جو حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے صلاح مشورے میں مصروف ہیں۔

انتخابی نتائج کے بارے میں فیصلے کے حوالےسے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ آئندہ حکومت کی قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھنا چاہئے۔

ان رہنماؤں نے افغان انتخابات کے اہم اُمیدواروں سے کیا بات کی، اس کی تفصیلات تو دستیاب نہیں۔ البتہ ان کوششوں کا مقصد افغانستان میں دوبارہ انتخابات سے بچنا بتایا جاتا ہے، جس کا واضح خطرہ موجود ہے۔

گزشتہ دِنوں امریکی روزنامے 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 20 اگست کے انتخابات میں بعض حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے نتیجے میں صدر حامد کرزئی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد سے کم ہو چکی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی اُمیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر پایا تو انتخابات دوبارہ منعقد کرانا ہوں گے۔

انتخابی نتائج کے حوالے سے سرکاری اعلامیہ انڈیپینڈینٹ الیکشن کمیشن IEC نے کرنا ہے، جسے کرزئی نواز خیال کیا جاتا ہے، اور یہ اقوام متحدہ کے منظورکردہ الیکشن کمیشن برائے شکایات ECC کے تحت کام کرتا ہے۔

خبررساں ادارے AFP نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ای سی سی کی جانب سے دوبارہ گنے گئے ووٹوں سے متعلق آج ہفتہ کو تین میں سے دو نتائج کا اجراء متوقع ہے۔ دوسری جانب ای سی سی کے ذرائع کے مطابق آئی ای سی آئینی طور پر ای سی سی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا پابند ہے۔

Bernard Kouchner Frankreich

فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارڈ کوشنیر کابل میں موجود ہیں

تاہم بعض حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں اداروں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافِ رائے برقرار ہے، جس سے انتخابات کے حتمی نتائج کے اجراء میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس تاخیر سے فریقین کے ساتھ مذاکرات کے لئے وقت ضرور مل سکے گا۔

یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ حامد کرزئی کو ہی فاتح قرار دے دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی صورت میں بھی کرزئی ہی کی جیت متوقع ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM