1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان پہلے سے زیادہ پر خطر، ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں عام شہریوں کو اس وقت اتنے شدید خطرات کا سامنا ہے جتنا سن 2001 میں طالبان دور کے خاتمے کے بعد سے لے کر آج تک نہیں تھا۔

default

کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کے صدر دروازے کے قریب ایک حالیہ خود کش حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے لئے ڈائریکٹر صام ظریفی نے جمعرات کی شام اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں 20 اگست کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے ابھی تک غیر واضح ہونے کے سبب وہاں ملکی سلامتی اور داخلی امن کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہوئی ہے۔

صام ظریفی کے بقول ہندو کش کا علاقہ افغان عوام کے لئے حقیقی طور پر جتنا غیر محفوظ اور خطرناک اب ہے، اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیم کے افغانستان کے بارے میں اس مئوقف کا تازہ ترین پس منظر گزشتہ منگل کے روز جنوبی افغان شہر قندھار میں کئے گئے کئی کار بم حملوں کا وہ سلسلہ بھی ہے، جس میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

Wahl Afghanistan 2009 Hamid Karzai

صدر حامد کرزئی صدارتی الیکشن کے دوران اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

جمعرات کے روز پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب افغان صوبے پکتیا کے ایک چھوٹے سے علاقے سرہاؤزا میں بھی طالبان عسکریت پسندوں نے ایک کلینک کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔ اس علاقے کو بالعموم طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے لئے ڈائریکٹر صام ظریفی کہتے ہیں کہ حالیہ انتخابات کے دوران افغان حکومت اور اس کی معاون بین الاقوامی برادری نے افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سبھی ممکنہ اقدامات کئے، تاہم کئی حکومت مخالف گروپوں سمیت طالبان نے بہت منظم طریقے سے افغان عوام کو عدم تحفظ کا شدید تر احساس دلانے اور ملک میں مزید بد امنی پھیلانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

صام ظریفی نے کابل میں ملکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ دہشت گردوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائیاں کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو ملحوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو انسانی حقوق پامال کرنے والوں اور قانون کا احترام نہ کرنے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM