1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: پچاس پولیس اہلکار اغوا

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے پچاس افغان پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا ہے۔

default

طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے اس طرح کی مزید کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں، ماہرین

طالبان شدّت پسندوں کی جانب سے گھات لگا کر ڈیوٹی سے غیر حاضر پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کی تصدیق طالبان اور صوبائی حکّام نے کردی ہے۔

  یہ واقعہ شورش زدہ شمال مشرقی صوبے کنڑ کے ضلعے چپہ درہ میں پیش آیا ہے۔ پولیس اہلکار نورستان صوبے سے اپنی تنخواہیں وصول کرکے واپس لوٹ رہے تھے جب طالبان نے ان کو اغوا کر لیا۔ اس بات کی تصدیق نورستان کے گورنر جمال الدین بدر نے کی ہے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکار مسلح نہیں تھے اور وہ سادہ لباس میں سفر کر رہے تھے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے سات ایسے علاقوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں افغان سکیورٹی فورسز نیٹو افواج سے کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں گی۔ نیٹو افواج کا مرحلہ وار انخلاء رواں برس جولائی سے شروع ہو جائے گا اور اسے دو ہزار چودہ تک مکمل کیا جانے کا امکان ہے۔

NO FLASH Bundeswehr im Kampf gegen Taliban

جولائی سے نیٹو افواج کا مرحلہ وار انخلاء شروع ہو رہا ہے

افغانستان پر نظر رکھنے والے مبصرین کی رائے ہے کہ ایک ایسے وقت جب افغان سیکیورٹی فورسز چارج سنبھالنے کے مرحلے میں ہیں، طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے اس طرح کی  مزید کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

کنڑ اور نورستان صوبے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ملحق پہاڑی علاقے ہیں جہاں پاکستان سے عسکریت پسند افغانستان میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستانی فوج اپنے شورش ذدہ قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں تاہم بین الاقوامی دفاعی ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں بعض عناصر ایسے ہیں جو اب بھی طالبان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے پاس اس وقت ایسی قابلیت نہیں ہے کہ وہ افغانستان کی سیکیورٹی کو اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔  اس حوالے سے مغربی ممالک میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM