1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: پولیس کمانڈر سمیت 13 ہلاک

ایک افغان اہلکار کے مطابق دہشت گرد گروپ داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں 10 پولیس اہلکار اور ایک پولیس کمانڈر کی بیوی ہلاک ہو گئے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ حملہ افغانستان کے شمالی صوبہ جوزجان میں کیا گیا۔ افغان مقامی پولیس کے کمانڈر شاہ محمود اور ان کے ساتھ نو دیگر پولیس اہلکاروں کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ضلع درزاب کے گاؤں سردار کی ایک مسجد سے باہر  نکل رہے تھے۔ جوزجان کے صوبائی گورنر کے تجرمان محمد رضا غفوری نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

غفوری نے مزید بتایا کہ فائرنگ کے بارے میں سن کر کمانڈر کی اہلیہ وہاں پہنچیں جہاں انہیں بھی فائرنگ کر کے مار دیا گیا۔ جوزجان کے حکام نے اس حملے کی ذمہ داری دہشت پسند گروپ داعش پر عائد کی تھی تاہم اس کی ذمہ داری افغان طالبان کی قبول کر لی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے افغان لوکل پولیس کے کمانڈر شاہ محمود اور نعیم کو دیگر آٹھ پولیس اہلکاروں کے ساتھ اس گروپ نے مارا ہے اور اس گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔

Afghanistan Taliban Kämpfer (Getty Images/AFP/J. Tanveer)

حملے کی ذمہ داری دہشت پسند گروپ داعش پر عائد کی تھی تاہم اس کی ذمہ داری افغان طالبان کی قبول کر لی ہے

افغانستان میں داعش کے سامنے آنے کے بعد سے اس گروپ کے عسکریت پسند زیادہ تر ملک کے مشرقی صوبوں تک محدود ہیں جن میں سے زیادہ قابل ذکر ننگرہار ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق اس گروپ کی طرف سے دارالحکومت کابل میں تو حملے کیے گئے ہیں تاہم ملک کے شمالی حصوں میں اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک اور حملے میں اسکول کے دو طالب علم اس وقت مارے گئے جب طالبان کی طرف سے داغا گیا ایک راکٹ ایک اسکول پر جا گرا۔ افغان صوبہ لغمان کے گورنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’ایک استاد سمیت سات دیگر زخمی بھی ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق صوبہ لغان کے ضلع علین گار میں زخمی ہونے والے ان افراد کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ طالبان کی طرف سے اس حملے پر ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔