1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان پر امریکی حملے کے دس برس مکمل

افغانستان پر امریکی حملے کے دس سال آج مکمل ہو گئے ہیں۔ ہزاروں افراد کی ہلاکت اور اربوں ڈالر کی لاگت کے باوجود پائیدار امن کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔

default

دس برس مکمل ہونے پر مختلف افغان باشندوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کابل کے ایک 30 سالہ باورچی عبدالصبور کا کہنا ہے، ’’میں نے طالبان کے دور حکومت میں ایک سال کابل میں گزارا تھا۔ انہوں نے ہر چیز پر پابندی لگاتے ہوئے زندگی مشکل بنا دی تھی۔ ہم ملک سے فرار کے بعد پاکستان میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ میں اس وقت بہت خوش تھا، جب طالبان کے سیاہ دور کا خاتمہ ہوا تھا۔‘‘

Afghanistan Kabul Protest USA

گزشتہ روز 200 کے قریب افغانیوں نے کابل میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے انخلاء کا مطالبہ کیا

لیکن اس کے برعکس گزشتہ دس برسوں میں افغان حکومت کی کرپشن اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کے باعث عدم اطمینان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک ریڑی لگانے والے 30 سالہ خان آغا کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکل جانا چاہیے،’’ جب سے امریکی اور ان کے اتحادی یہاں آئے ہیں، افغانستان کی سکیورٹی مزید خراب ہو گئی ہے۔ وہ ہزاروں افغان شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔‘‘

کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے کابل کی سکیورٹی کو آج ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز 200 کے قریب افغانیوں نے کابل میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہریں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موت کے نعرے لگائے جبکہ ریلی کے اختتام پر امریکی جھنڈے کو بھی جلایا گیا۔

افغانستان میں جنگ کے دس برس بعد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ افواج کا انخلاء طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو گا۔ برسلز میں نیٹو کے دفاعی وزراء کی مشاورت کے بعد راسموسن نے کہا کہ افغانستان میں اب بھی کئی علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے تاہم مجموعی سلامتی کی صورتحال اب پہلے سے زیادہ بہتر ہے۔ نیٹو فورسز سن دو ہزار چودہ تک افغان مشن ختم کرنا چاہتی ہیں۔ نیٹو کے سربراہ کا مزید کہنا تھا، ’’سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغانستان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM