1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: پانچ نیٹو فوجی ہلاک

آج بدھ کے روز افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے نیٹو فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کا تعلق پولینڈ سے ہے۔

default

گزشتہ دس برسوں سے افغانستان میں جاری اس جنگ کے دوران اسے وارسا حکومت کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

پولینڈ کی نیوز ایجنسی پی اے پی نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی اہلکار سڑک کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم افغانستان میں پولینڈ فورسز کے سربراہ نے کسی بھی قسم کی اطلاعات دینے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق تمام تفصیلات ہلاک ہونے والوں کے اہلِخانہ کو اطلاع دینے کے بعد منظر عام پر لائی جائیں گی۔ پولینڈ کے اس وقت افغانستان میں 2600 کے قریب فوجی اہلکار تعینات ہیں اور اس ملک نے بھی سن 2014 تک افغانستان سے اپنے تمام اہلکار واپس بلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

کابل میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے اپنے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں جنوب مغربی صوبے غزنی میں پیش آئی ہیں، جہاں پولینڈ کے فوجی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

Afghanistan NATO Marines Soldaten Krieg

گزشتہ دس برسوں کے دوران ہلاک ہونے والے پولینڈ کے فوجیوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے

غزنی کے صوبائی پولیس سربراہ دلاور زاہد کے مطابق یہ واقعہ غزنی شہر کے علاقے رازا میں مقامی وقت کے مطابق دن میں گیارہ بج کر تیس منٹ کے قریب پیش آیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق نیٹو قافلے میں شامل ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ٹیکسٹ میسج لکھتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ آج کی ہلاکتوں کے بعد افغانستان میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ہلاک ہونے والے پولینڈ کے فوجیوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے۔ سن 2001 میں امریکی حملے کے بعد پولینڈ کی فوجیں مارچ 2002ء میں افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔ بین الاقوامی اتحادی فورسز سن 2014 تک افغانستان سے نکل جانا چاہتی ہیں تاہم اندازوں کے مطابق ہزاروں غیر ملکی فوجی افغان فورسز کی ٹریننگ اور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے افغانستان میں موجود رہیں گے۔

دوسری جانب افغان حکام نے ایک خود کش حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بیان کے مطابق مشرقی افغانستان میں حملہ آور کابل بینک کی ایک شاخ کے سامنے کھڑے افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ خوست میں ہونے والے اس واقعے میں ایک افغان پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے خوست پاکستان سرحد کے قریب واقع ہے اور اس علاقے میں طالبان عسکریت پسندوں کا کافی زیادہ اثرو رسوخ مانا جاتا ہے۔ رواں برس فروری میں افغان شہر جلال آباد میں کابل بینک پر ایک حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM