1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: پانچ خواتین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا

افغانستان کے شہر قندھار میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایئرپورٹ اسٹاف میں بطور گارڈ کام کرنے والی پانچ خواتین کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ بات افغان حکام کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

افغانستان میں خواتین کے خلاف ہونے والوں حملوں کے سلسلے کے اس تازہ واقعے میں ان خواتین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے کام کے لیے روانہ ہوئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان میں گزشتہ 15 برس سے طالبان کی قیادت میں جاری بغاوت اور افراتفری سے خواتین بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے علاوہ وہاں خواتین کو عزت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان سب کی ایک وجہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں سکیورٹی کی انتہائی ناگفتہ بہ صورتحال اور بڑھتا ہوا تشدد بھی ہے۔

قندھار کے گورنر کے ترجمان سمیم خوپُل وَک کے مطابق ہلاک ہونے والی خواتین قندھار ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں کی تلاشی وغیرہ کے عمل کی انچارج تھیں اور انہیں ایک پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی نے ملازمت دی ہوئی تھی۔

ان کا کہنا مزید تھا، ’’ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے آج صبح ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے والی ان کی ویگن کا پیچھا کیا اور اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں یہ پانچوں خواتین اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔‘‘

Afghanistan Landwirtschaft in der Provinz Badakhshan (picture-alliance/AP Photo/M. Hossaini)

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغان خواتین کی طرف سے طویل جدوجہد کے بعد تعلیم اور کام کرنے کا حق حاصل کرنے کے حوالے انہیں کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں

ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم حکومت کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مصروف طالبان ان خواتین کے بھی خلاف ہیں جو گھروں سے نکل کر کوئی کام کرتی ہیں۔

سال 2001ء میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغان خواتین کی طرف سے طویل جدوجہد کے بعد تعلیم اور کام کرنے کا حق حاصل کرنے کے حوالے انہیں کامیابیاں تو حاصل ہوئی ہیں تاہم روئٹرز کے مطابق اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ ملک میں خراب ہوتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال کے سبب صورتحال ایک بار پھر طالبان کے دور حکومت جیسی نہ ہو جائے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے بے انتہا دباؤ کے باوجود افغانستان آج بھی خواتین کے لیے ایک انتہائی مشکل ملک ہے۔

DW.COM