1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: نیٹو، امریکی فورسز کی قیادت اب جنرل نکلسن کے پاس

افغانستان میں امریکا اور نیٹو کے فوجی دستوں کی قیادت اب امریکی فوج کے جنرل جان ڈبلیو نکلسن نے سنبھال لی ہے۔ اس موقع پر اہتمام کردہ فوجی تقریب میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے۔

Afghanistan neuer Nato-Oberbefehlshaber General John Nicholson

جنرل جان ڈبلیو نکلسن

افغان دارالحکومت کابل سے بدھ دو مارچ کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق 58 سالہ جنرل نکلسن نے ہندوکش کی اس ریاست میں اب امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی دستوں کی قیادت تو سنبھال لی ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ افغانستان میں امریکا کی اب تک جاری رہنے والی فوجی موجودگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں واشنگٹن کی جنگی کارروائیاں امریکا کے لیے اس کی آج تک کی طویل ترین جنگ ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی فوجی دستے گزشتہ 14 برسوں سے وہاں طالبان کی مسلح بغاوت پر قابو پانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

ہندوکش کی اس ریاست میں امریکی اور نیٹو فوجی دستوں کے مشترکہ مشن کو ’آپریشن ریزولیوٹ سپورٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، اور اس مشن کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کی تقریب آج کابل میں اسی مشن کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی۔

جنرل نکلسن سے پہلے اس مشن کی قیادت ان کے ہم وطن جنرل جان ایف کیمپ بیل کے پاس تھی۔ جنرل کیمپ بیل اس وقت بھی اس مشن کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر تھے، جب 2014ء میں افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی دستوں کا جنگی مشن اپنے اختتام کو پہنچا تھا اور نئے مشن کو ’ریزولیوٹ سپورٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ بھی بین الاقوامی جنگی دستوں کے انخلاء کے بعد ہی ہوا تھا کہ افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے کابل حکومت کے دستوں اور ان کے غیر ملکی عسکری اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی تھیں۔

امریکا اور نیٹو کے فوجی مشن کی قیادت میں تبدیلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل نکلسن نے آج کہا، ’’دشمن کو میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم تمہیں جانتے ہیں۔ تم نے افغان عوام کے لیے صرف مشکلات اور مسائل ہی پیدا کیے ہیں۔‘‘

Raheel Sharif Pakistan

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف

جنرل نکلسن نے آج سے جن فوجی دستوں کی کمان سنبھالی ہے، ان کی مجموعی تعداد قریب 13 ہزار ہے۔ ان میں امریکا کے 9800 فوجی بھی شامل ہیں جبکہ باقی ماندہ 3200 فوجیوں کا تعلق نیٹو کے رکن مختلف ملکوں سے ہے۔ اس وقت افغانستان میں تعینات قریب دس ہزار امریکی فوجیوں میں سے تقریباﹰ تین ہزار طالبان اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی مصروف ہیں۔

آج کی اس تقریب میں افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے۔ مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق انہوں نے کابل میں اپنے مختصر قیام کے دوران اس تقریب میں شرکت کرنے کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی۔

DW.COM