1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں 7 نومبر کو دوسرے انتخابی مرحلے کا اعلان

افغان الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ 20 اگست کے صدارتی انتخابات میں کسی امیدوار نے مقررہ 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کئے لہذا سات نومبر کو دوسرا انتخابی مرحلہ ہوگا۔

default

دوسرے انتخابی مرحلے یعنی رن آف الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے صدر حامد کرزئی اور ان کے قریب ترین حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان سات نومبر کوانتخابی معرکہ ہوگا۔ افغان آئین کے مطابق کسی بھی صدارتی امیدوار کی حتمی کامیابی کے لئے ڈالے گئے کل ووٹوں کا کم از کم 50 فیصد حاصل کرنا ضروری ہے۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اپنے حتمی نتائج میں بتایا ہے کہ صدر حامد کرزئی نے 49.67 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں، اس لئے صدر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان دوبارہ انتخابی مقابلہ ہوگا۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی زیرنگرانی کام کرنے والے ’الیکشن شکایات کمیشن ‘ نے کہا تھا کہ بیس اگست کے صدارتی انتخابات کے دوران دھاندلیوں کے واضح شواہد ملے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ECC نے دو سو دس پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹ منسوخ کر دئے۔ قبل ازیں افغان الیکشن کمیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی نے 54 فیصد جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے اٹھائیس فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔

John Kerry

امریکی سینٹ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ جان کیری نے فیصلے سے قبل آج منگل کے روز صدر حامد کرزئی سے اہم ملاقات کی۔

خودمختار الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قانون اور آئین کے عین مطابق ہے، اور یہ ملک میں جمہوری اقدار کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انتخابی عمل کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی رپورٹوں کے بعد صدر حامد کرزئی پر دوسرے مرحلے کے انتخابات پر آمادگی کے لئے شدید بین الاقوامی دباؤ تھا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت اہم عالمی رہنماؤں نے افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے انتخابی حریف عبداللہ عبداللہ سے فون پر بات کی۔ ان میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، پاکستانی صدر آصف زرداری اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی شامل ہیں۔ جبکہ اس وقت افغانستان میں موجود امریکی سینٹ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ جان کیری نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ اس مسئلے کے حل سے قبل امریکی صدر کی جانب سے مزید فوجی دستے افغانستان بھیجنا ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہو گا۔

جان کیری نے افغان صدر سے ملاقات کے بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کو دونوں صدارتی امیدواروں کی جانب تسلیم کئے جانے کا خیر مقدم کیا اور اس سلسلے میں مزید کہا: "افغانستان کے مستقبل کا حتمی فیصلہ افغان عوام اور افغان حکومت اور سول افراد نے کرنا ہے، نہ کے مسلح افواج یا بین الاقوامی برادری نے۔"

افغان الیکشن کمیشن کے اعلان سے قبل امریکی سینٹ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ جان کیری نے آج منگل کے روز صدر حامد کرزئی سے اہم ملاقات کی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت : امجد علی