1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں ہسپتال پر غلطی سے بمباری کا امریکی اعتراف

افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جون کیمبل کے اس اعتراف کے بعد کہ قندوز میں واقع ہسپتال پر تین اکتوبر کا خونریز فضائی حملہ بنیادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کا نتیجہ تھا، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

kundus afghanistan klinik krankenhaus hospital luftangriff feuer MSF

قندوز کے اس ہسپتال پر حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

فرانسیسی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے زیرِ انتظام چلنے والے قندوز کے اس ہسپتال پر یہ امریکی فضائی حملہ اُس وقت کیا گیا تھا، جب طالبان نے اس شمالی افغان شہر پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اس ہسپتال کو بند کیا جانا پڑا تھا۔ اس واقعے کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی۔

بدھ پچیس نومبر کو کابل میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جنرل جون کیمبل نے بتایا کہ ’یہ المناک واقعہ، جسے روکا جا سکتا تھا، بنیادی طور پر انسانی غلطی کا نتیجہ تھا‘۔ امریکی جنرل نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے سے قریبی طور پر جڑے ہوئے تمام افراد کو اُن کی ڈیوٹی سے معطل کیا جا چکا ہے۔

جنرل جون کیمبل کا مزید کہنا تھا کہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا، تب امریکی دستوں کو قندوز میں طالبان کی پیشقدمی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ روز ہو چکے تھے اور اُن کی تھکان بھی جزوی طور پر اس المناک واقعے کا سبب بنی۔ اُن کے بقول اس کے ساتھ ساتھ اس غلطی کے پیچھے انسانی اور تکنیکی خامیاں بھی کارفرما رہیں۔

امریکی فوج کی ان تحقیقات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرانسیسی فلاحی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹوفر سٹوکس نے امریکی افواج کی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے:’’آج غلطیوں کی ہراساں کر دینے والی جو فہرست گنوائی گئی ہے، وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکی فوج نے کتنے بڑے پیمانے پر غفلت برتی ہے اور جنگ کے اصولوں کی کتنی بڑی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔‘‘

Afghanistan Ärzte ohne Grenzen Krankenhaus in Kundus

پندرہ اکتوبر 2015ء: فرانسیسی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹوفر سٹوکس قندوز کے کلینک پر حملے کے چند روز بعد اس کے گیٹ پر کھڑے نظر آ رہے ہیں

کیمبل نے بتایا کہ کیسے خصوصی آپریشن پر مامور اے سی 130 طیارے نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنا ڈالا، بجائے قریب ہی واقع افغان انٹیلیجنس کے اُس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے کے، جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ جنرل کیمبل کے مطابق جن لوگوں نے اس حملے کی درخواست کی اور جنہوں نے اس کارروائی کوعملی جامہ پہنایا، ’انہوں نے اس بات کی تصدیق کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، آیا وہ ایک درست ہدف بھی ہے‘۔ واضح رہے کہ یہ امریکی فضائی حملہ تقریباً آدھ گھنٹے تک جاری رہا تھا، جس دوران ہسپتال کی عمارت پر دو سو سے زیادہ گولے فائر کیے گئے۔

اسی پریس کانفرنس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل ولسن شوفنر نے کہا کہ اس فضائی حملے میں شریک کچھ لوگوں نے طے شُدہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا تھا۔ شوفنر نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا امریکی فوج کی ان تحقیقات کے بعد اس واقعے کی اضافی طور پر آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات بھی کروائی جائیں گی، جیسا کہ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پہلے بھی بار بار مطالبہ کیا گیا ہے اور اب ایک بار پھر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو اور افعان فوج اپنے اپنے طور پر بھی اس واقعے کی تحقیقات کروا رہی ہیں۔

Afghanistan US-General John Campbell

امریکی کمانڈر جنرل جون کیمبل نے بدھ کی پریس کانفرنس میں وضاحت کے ساتھ یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ دراصل کون اس مہلک غلطی کا ذمے دار تھا

آزادانہ تحقیقات کے لیے ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطالبے کی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بھی تائید کی گئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جنرل کیمبل نے حملے کی جو تفصیلات بتائی ہیں، اُن کی روشنی میں ’ممکنہ جنگی جرائم کے سلسلے میں فوجداری تحقیقات‘ کی جانی چاہییں۔ جنرل کیمبل نے بدھ کی پریس کانفرنس میں وضاحت کے ساتھ یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ دراصل کون اس مہلک غلطی کا ذمے دار تھا۔