1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں گرینڈ جرگے کا آغاز آج سے

افغانستان میں بدھ کے روز اہم قبائلی عمائدین پر مشتمل گرینڈ جرگے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس جرگے میں افغانستان میں قیام امن کے لئے کوئی متفقہ لائحہء عمل طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

default

دارالحکومت کابل میں اس حوالے سے تقریبا 1600 قبائلی رہنما جمع ہوئے ہیں۔ ان قبائلی رہنماؤں کے اس اجتماع میں یہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کس طرح اس جنگ زدہ ملک کو دوبارہ امن کی جانب لوٹایا جا سکتا ہے۔ اس تین روزہ امن جرگے میں ملک بھر سے اہم قبائلی رہنما صدر حامد کرزئی کی درخواست پر جمع ہوئے ہیں۔ افغانستان میں قبائلی جرگے ماضی میں ایک قومی اسمبلی کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ اس جرگے میں یہ بھی طے کیا جائے گا کہ جنگ کے جلد از جلد خاتمے اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ملک میں امن و سلامتی کی ذمہ داری کس طرح خود اٹھائی جا سکتی ہے۔

اس جرگے میں شامل عمائدین سے افغان صدر حامد کرزئی بھی خطاب کریں گے۔ کرزئی کی کوشش ہو گی کہ جنگ بندی کے لئے وہ اپنی تجاویز پر افغان عمائدین کا اعتماد حاصل کر سکیں۔

اس جرگے کے خلاف طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے کسی ممکنہ حملے سے تحفظ کے لئے سیکیورٹی کے فرائض تقریبا 12 ہزار اہلکاروں کے سپرد کئے گئے ہیں۔

Afghanistan Präsident Hamid Karsai in Kundus

افغان صدر نے حلف برداری کے تقریب کے بعد کہا تھا کہ وہ ایسا جرگہ منعقد کریں گے

گزشتہ برس نومبر میں کرزئی نے دوسری پانچ سالہ مدت صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ عسکریت پسندی کے خاتمے اور ملک میں قیام امن کے لئے گرینڈ جرگے کا انعقاد کریں گے۔ جرگے کے موقع پر کابل کو چاروں طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے جبکہ کابل شہر میں تین روز تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

گرینڈ جرگے کے موقع پر جمع ہونے والے وفود میں تین سو خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ خواتین بھی ملک میں جنگ بندی اور قیام امن کے لئے اپنی تجاویز پیش کریں گی۔ اس جرگے میں اعتدال پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والے طالبان رہنماؤں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ معتدل عسکریت پسندوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی امن جرگے میں اس وقت تک شریک نہیں ہوں گے جب تک غیر ملکی افواج ملک سے چلی نہیں جاتیں۔

بدھ کو شروع ہونے والے اس جرگے کا اختتام جمعے کے روز ہوگا۔ اس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں وہ تمام مجوزہ اقدامات شامل ہوں گے، جن پر اس جرگے میں شامل عمائدین اتفاق ظاہر کریں گے۔

جرگے میں شریک ایک رہنما کے مطابق اگر یہ جرگہ مکمل طور پر کامیاب نہ بھی ہو، تب بھی یہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا ایک بہترین قدم ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM