1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نیٹو کے چار فوجی ہلاک

افغانستان میں ایک بم حملے کے نتیجے میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ پیر کو افغانستان کے جنوبی علاقے میں ہوا۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیتیں نہیں بتائی گئیں۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس نے ایک بیان میں کہا، ’افغانستان کے جنوبی علاقے میں دیسی ساختہ بم کے حملے میں ISAF کے چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

اس اعلامیے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیتیں بھی نہیں بتائی گئی ہیں، جس کا اعلان ان کے اپنے ممالک کی جانب سے سامنے آ سکتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق رواں برس افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے غیرملکی فوجیوں کی تعداد 176ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس وہاں سات سو گیارہ غیرملکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس تناظر میں 2010ء افغانستان میں نیٹو کے لیے بدترین سال رہا۔

نیٹو کا افغان مشن تقریباﹰ ایک دہائی سے جاری ہے، جس کے تحت اس کے فوجی طالبان انتہاپسندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہاں تعینات ISAF کے فوجیوں کی تعداد تقریباﹰ ایک لاکھ تیس ہزار ہے۔ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں تعینات زیادہ تر فوجی امریکی اور برطانوی ہیں۔

طالبان نے گزشتہ ماہ نئے حملے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغان فوجیوں اور ان کے غیرملکی اتحادیوں کے خلاف بم حملوں اور گوریلا کارروائیوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

ISAF کے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے نصف سے زائد شدت پسندوں کی جانب سے نصب کی جانے والی دیسی ساخت کی بارودی سرنگوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

Flash-Galerie Bundeswehr-Einsatz in Afghanistan

نیٹو کا افغان مشن تقریبا ایک دہائی سے جاری ہے

امریکہ میں 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ طالبان کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسامہ بن لادن کو رواں ماہ امریکی خصوصی دستوں نے خفیہ آپریشن کے دوران پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا تھا۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بن لادن کی موت سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء میں تیزی آئے گی یا نہیں، اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رواں برس کے آخر تک جنگ اہم موڑ لے سکتی ہے اور مزید فوجی گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس