1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نیٹو کے تین اور فوجی ہلاک

شمالی افغانستان میں ایک خودکش حملے میں جمعے کو پانچ مقامی باشندے جاں بحق ہو گئے جبکہ جنوبی افغانستان میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں نیٹو کے تین اور فوجی مارے گئے ہیں۔

default

افغانستان میں طالبان باغیوں کے ساتھ نیٹو افوج کی جھڑپیں جاری

کابل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جمعے کو کئے گئے ایک خودکش حملے میں ایک عسکریت پسند نے، جس نے اپنے جسم سے دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا، خود کو ایک مقامی سیاسی رہنما رحمت اللہ ترکستانی کے بالکل قریب ہی دھماکے سے اڑا دیا۔ ایک مقامی پولیس کمانڈر کے مطابق اس واقعے میں پانچ شہری ہلاک ہوئے جبکہ رحمت اللہ ترکستانی زخمی ہو گئے۔

افغان صوبے فریاب سے مو صولہ رپورٹوں کے مطابق رحمت اللہ ترکستانی فریاب کی صوبائی کونسل کے سربراہ ہیں، جن کو طالبان اس حملے میں ہلاک کرنا چاہتے تھے۔

اسی دوران کابل میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی بین الااقوامی حفاظتی فوج ISAF کے ذرائع نے بتا یا کہ جنوبی افغانستان میں طالبان باغیوں کے ساتھ نئی جھڑپوں میں نیٹو کے تین اور غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

نیٹو کے عسکری ذرائع نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیتیں ظاہر نہیں کیں۔ تاہم اتنا بتایا گیا کہ ان میں سے دو اتحادی فوجی جمعرات کو طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والے خونریز جھڑپوں میں مارے گئے جبکہ ایسی ہی ایک جھڑپ میں ISAF کا تیسرا فوجی آج جمعہ کو روز ہلاک ہوا۔

Deutschland Flash-Galerie Woche 39 Afghanistan Bundeswehr

نیٹو کے عسکری ذرائع نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیتیں ظاہر نہیں کیں

جنوبی افغانستان طالبان باغیوں کی مزاحمت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور وہیں سے جا‍ کر اب انتہاپسندوں نے مقابلتاﹰ پرسکون شمالی افغانستان میں بھی خونریز حملے کرنے شروع کر دئے ہیں۔

جمعرات اور جمعے کے روز نیٹو فوجیوں کی ان تین نئی ہلاکتوں کے بعد سال رواں کے دوران افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے غیر ملکی اتحادی فوجیوں کی کل تعداد 620 ہو گئی ہے۔ اس طرح سن 2010 افغانستان میں امریکی سربراہی میں مصروف عمل غیر ملکی فوجیوں کے لئے 2001 میں طالبان دور حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا ہے۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجی دستوں کی مجموعی تعداد اس وقت ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔ ان فوجیوں کو ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتے ہوئے اب دسواں سال شروع ہو چکا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس