1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نیٹو قافلے پر خودکش حملہ

افغان صوبے قندھار میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق اس حملے میں کئی غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک عینی شاہد اور دکاندار محمد اعظم کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک گاڑی میں سے تین فوجیوں کو گھسیٹ کر نکالا گیا ہے۔ اس افغان شہری کا مزید کہنا تھا، ’’حملے کے بعد ایک گاڑی کو مکمل آگ لگ گئی تھی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی وہاں ہیلی کاپٹر آیا، جس میں تین فوجیوں کی لاشوں کو رکھا گیا۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ جس قافلے کو نشانہ بنایا گیا، اس میں غیرملکیوں کی تین گاڑیاں شامل تھیں۔ افغانستان کے ایک مقامی ٹیلی وژن کے مطابق جس قافلے کو نشانہ بنایا گیا، وہ امریکی فوجیوں کا تھا۔

دوسری جانب صوبہ قندھار میں اثرو رسوخ رکھنے والے طالبان نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان اس علاقے میں پہلے بھی کئی مرتبہ غیرملکی فوجیوں کے قافلوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

افغانستان: مسجد میں بم دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی

 افغانستان میں موجود نیٹو مشن نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ ڈیمین ای ہور وتھ کی طرف سے نہ تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی شہریت ظاہر کی گئی ہے۔ صوبہ قندھار کی پولیس کے ترجمان ضیاء درانی کا کہنا تھا کہ ایک خودکش حملہ آور نے دامان کے علاقے میں بارود سے بھری ایک کار غیرملکی فوجیوں کے قافلے سے ٹکرائی ہے۔

اس حملے کو نیٹو فورسز کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ نیٹو فورسز نے سن دو ہزار چودہ میں اپنا مسلح افغان مشن ختم کر دیا تھا لیکن افغانستان میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر اس ملک میں مزید فوجی تعینات کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جو افغان فورسز کو معاونت اور تربیت فراہم کریں گے۔

جون کے آخر میں نیٹو نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں کئی ہزار مزید فوجی تعینات کرے گا، جس کا مقصد طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ دوسری جانب طالبان افغانستان میں ہونے والی اپنی کارروائیوں میں تیزی لے آئے ہیں اور حکومتی فورسز کو ریکارڈ حد تک جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

DW.COM