1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں

افغانستان میں لڑنے والی نیٹو افواج کو جون کا مہینہ اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے مہنگا پڑا ہے۔ اس مہینے میں اب تک اتحادی فوج کے 100 کے قریب سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں۔

default

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق صرف اتوار کو مختلف واقعات میں دس نیٹو فوجی ِاس جنگ زدہ ملک میں موت کا شکار ہوئے۔ اِن ہلاک ہونے والوں میں چار فوجیوں کا تعلق ناروے، دو کا امریکہ اور ایک کا برطانیہ سے ہے، جب کہ تین فوجیوں کا تعلق نیٹو کے دیگر ممالک سے ہے۔

گزشتہ سال نیٹو کے 521 فوجی طالبان جنگجوؤں کے حملوں کا شکار ہوئے تھے جب کہ اس سال اب تک 319 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان مرنے والوں میں 190 سے زائد امریکی اور 63 برطانوی ہیں جب کہ بقیہ 60 سپاہیوں کا تعلق نیٹو سے تعلق رکھنے والے دوسرے ممالک سے ہے۔ 2001 کے امریکی حملے کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان میں مارے جانے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد 1883 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 1139 امریکی اور 308 برطانوی ہیں۔

Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan Flash-Galerie

گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال طالبان جنگجوؤں کے حملوں میں شدت آئی ہے

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان کی طرف سے سڑکوں کے کنارے بم نصب کرنے کی وارداتیں ان بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ گزشتہ سال کے پہلے چار مہینوں کے مقابلے میں، اس سال سڑکوں کے کنارے بم نصب کرنے کے واقعات میں 94 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

طالبان کے خلاف مختلف عسکری آپریشن اِن بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اِن عسکری مہمات کی وجہ سے نیٹو کے فوجیوں کو پہلے سے زیادہ اُن علاقوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جہاں طالبان جنگجوؤں کا اثرورسوخ ہے۔

ہلاکتوں کے اِن واقعات پر امریکی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے پیرکوخبردار کیا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں ابھی اور بھی مشکلات آ سکتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ توقعات سے زیادہ طول بھی پکڑ سکتی ہے۔

ان ہلاکتوں کی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں اب افغانستان میں جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے حال ہی میں افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل میک کرسٹل کو برطرف کر کے ان کی جگہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا تقرر کیا ہے۔ کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ ہلاکتیں نہ صرف ڈیوڈ پیڑیاس کے لئے ایک چیلنج ہیں بلکہ امریکہ کی افغان پالیسی کا بھی ایک کڑا امتحان ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: امجد علی