1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نیٹو فضائی حملے، ’داعش کا سرکردہ لیڈر ہلاک‘

افغانستان میں عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ٹھکانوں پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فضائی حملوں میں گیارہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں حکام کے بقول داعش کا ایک سرکردہ رہنما حافظ سعید بھی شامل ہے۔

کابل سے جمعہ پندرہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس فضائی بمباری میں حافظ سعید سمیت ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے 11 باغیوں کی ہلاکت کی ایک مقامی افغان اہلکار نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ افغان نیوز ایجنسی تولو نیوز نے بتایا کہ نیٹو فورسز کی طرف سے یہ فضائی حملے مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں جمعرات کی شام کیے گئے۔

ننگرہار کے ضلع اچین کے انتظامی سربراہ غالب مجاہد نے بتایا کہ ان حملوں میں حافظ سعید کے علاوہ جو دیگر عسکریت پسند مارے گئے، ان میں پاکستانی طالبان کے ایک مشہور سابق کمانڈر منگل باغ کا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔

غالب مجاہد کے بیانات کے برعکس ننگرہار میں صوبائی پولیس کے ترجمان حضرت حسین نے تولو نیوز کے ساتھ بات چیت میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے سینیئر کمانڈر حافظ سعید کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ ترجمان نے کہا، ’’ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ ان فضائی حملوں میں حافظ سعید مارا گیا ہے۔‘‘

دوسری طرف پولیس ترجمان حضرت حسین اور ننگرہار کے صوبائی گورنر کے دفتر دونوں کی طرف سے یہ تصدیق کی گئی ہے کہ نیٹو فروسز کی طرف سے اس افغان صوبے میں دو فضائی حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 10 عسکریت پسند مارے گئے۔

اس سے پہلے ننگرہار کے اسی ضلع میں گشتہ برس جولائی میں بھی متعدد افغان اہلکاورن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حافظ سعید اپنے 30 ساتھیوں کے ہمراہ ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ حافظ سعید ماضی میں پاکستانی طالبان کی تحریک طالبان پاکستان یا TTP کا سربراہ بھی رہا ہے، اور جولائی 2015ء میں اس کی مبینہ ہلاکت کی خبر سچ ثابت نہیں ہوئی تھی۔´

افغانستان میں نیٹو فوجی مشن کے سربراہ اور امریکی جنرل جان کیمپ بیل کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست کا مشرقی حصہ وہ علاقہ ہے، جو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ اسی لیے گزشتہ برس کے وسط سے امریکی فورسز عسکریت پسندوں کے خلاف اپنے ڈرون حملوں کا زیادہ تر ہدف اسی مشرقی علاقے کو بنائے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اسی ہفتے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی پاکستان اور افغانستان میں قائم کردہ شاخ کو باقاعدہ طور پر ایک دہشت گرد گروہ قرار دے دیا تھا۔ واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، ’’یہ گروہ پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور بنیادی طور پر اس کے عسکریت پسندوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے سابق ارکان سے ہے۔‘‘