1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں نجی سکیورٹی کمپنیوں پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

افغانستان نے نجی سکیورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے کو ترک کر دیا ہے۔ مغربی سفارت کاروں کی طرف سے تحفظات کے بعد افغان حکومت نے یہ اعلان کیا ہے۔

default

افغانستان میں کُل 52 نجی کمپنیاں ایسی ہیں، جو امریکی اتحادی افواج، اقوم متحدہ کے مختلف مشنز، امدادی اداروں، سفارت خانوں اور مغربی میڈیا کو سکیورٹی فراہم کرنے کا کام کررہی ہیں۔ پیر کو کابل حکومت کی طرف سے نئے اعلان کےبعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ کمپنیاں افغانستان میں اپنے آپریشنزجاری رکھیں گی۔

ان نجی سکیورٹی کمپنیوں پر شہری ہلاکتوں کے الزامات کے باعث افغان حکومت ان کمپنیوں پرپابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ افغان صدرحامد کرزئی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ مستقبل میں ان نجی کمپنیوں کی کارروائیوں پرسخت ضوابط کا اطلاق ہو گا۔ افغان وزارت داخلہ کے مشیرعبدالمنان فراحی نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا،’ مستقبل میں ان کمپنیوں کے آپریشنز مروجہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق ہوں گے۔‘

ان سکیورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے درست یا غلط ہونے کی صداقت جاننے کے لئے انسداد دہشت گردی کے سابق سربراہ عبدالمنان کو خصوصی طور پر فائز کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ نےعبدالمنان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو بند کرنے سے متعلق افغان صدر کی غلط رہنمائی کی گئی تھی۔ بقول عبدالمنان، ’افغان سکیورٹی فورسز کی استعداد اتنی نہیں ہے کہ وہ افغانستان بھرمیں سلامتی کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔‘

Amtseinführung Hamid Karzai Afghanistan

افغان صدر نجی سکیورٹی اداروں کو شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار گردانتے ہیں

افغانستان میں اس وقت 52 نجی سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں مقامی اورغیر ملکی دونوں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں میں 26 ہزار پانچ سو سے زائد افراد ملازم ہیں۔ ان میں غیرملکی اہلکاروں کی تعداد 34 سو بتائی جاتی ہے۔

رواں سال اگست میں افغان صدر حامد کرزئی نے حکم دیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک تمام نجی کمپنیوں کے معاہدے ختم کر دئے جائیں گے۔ حامد کرزئی کے اس منصوبے کے باعث یہ خطرات پیدا ہو گئے تھے کہ افغانستان میں امدادی کارروائیوں اور فوجی کمک کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

گزشتہ ویک اینڈ پر ہی پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں افغان صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ یہ نجی کمپنیاں افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں کی موجب بن رہی ہیں،’ یہ پرائیوٹ سکیورٹی کمپنیاں شہریوں کی ہلاکتوں اور بم دھماکوں کے علاوہ ہماری شاہراہوں کوغیرمحفوظ بنانے کے عمل میں ملوث ہیں۔‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس