1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

افغانستان میں منشیات کے کاروبار پر براہ راست حملوں کی اجازت

نیٹو افغانستان میں انسداد منشیات کی کاروائیوں میں برا. راست حصہ لے گا تاہم بشمول جرمنی کئی یورپی ممالک اس فیصلے کے حق میں نہیں ہیں۔

default

افغانستان میں موجود بین الااقوامی دفاعی اتحاد کے دستے ISAF منشیات کیے کاروبار کے خاتمے کو ممکن بنانے کے لیے فوجی کارووائی کریں گے۔ یہ فیصلہ جمعے کے روز مغربی دفاعی اتحاد یا نیٹو کے وزارائے دفاع نےہنگری کے دارلحکومت بودا پیسٹ میں ایک طویل بحث کے بعد کیا گیا۔ تا ہم جرمنی، اٹلی اور ہسپانیہ نے اس منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے منشیات کے کاروبار کا خاتمہ نیٹو فوج کے کام کا حصہ نہیں ہے اور اس مسئلے سے افغانستان کی حکومت کو خود نمٹنا چاہیے۔

ان ممالک کی مزاحمت کے باعث یہ طے ہوا ہے کہ پوست کے کارخانوں یا کھیتوں پر کسی بھی حملے سے قبل افغان حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ وفاقی جرمن وزیر دفاع فرانس یوزف ینگ کہتے ہیں: ’’میرا خیال ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ میں بھی ساتھ دینا ایک صحیح طرز عمل ہوگا۔ تا ہم ہمیں یہ جنگ افغان فورسز کے ساتھ مل کر لڑنی چاہیے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نہایت اہم نقطہ ہے۔ ‘‘

Landwirt bei der Mohnernte in Afghanistan

پوست کی فصل کاشت کرنے والا ایک افغان کسان محمد آغا

ان یورپی ممالک کا یہ نکتہ نظر ہے کہ پوست کے کارخانوں پر حملوں سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ ہو گا اور یہ کہ اس سےافغانستان میں تعینات اتحادی فوج کی مقبولیت میں بھی کمی آسکتی ہے۔ جبکہ امریکی حکام کے مطابق، منشیات کا کاروبار کرنے والے طالبان کی کفالت کر رہے ہیں۔ اور ان کے مطابق طالبان کو پوست کی کاشت سے سالانہ اسی ملین ڈالر آمدن ہو رہی ہے ۔ افغان حکومت بھی یہ چا ہتی ہے کہ نیٹو افغانستان میں ہونے والی پوست اور افیون کی کاشت کے خاتمے کے سلسلے میں کردار ادا کرے۔

افغانستان کے وزیر دفاع عبدالرحیم وردک نے نیٹو کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا: ’’اگر یہاں یورپ میں بیٹھ کر تمام ممالک یہ شکایت کر سکتے ہیں کہ پوری دنیا کی پوست افغانستان میں کاشت کی جا رہی ہے تو اپنی فوجیں اس کام میں لگانے میں ہچکچاہٹ کس بات کی ہوگی؟ ہچکچاہٹ کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ ہم اور آپ سب کو اس منشیات کے کاروبار سے نقصان ہو رہا ہے اوردھشت گردی کو مالی پشت پناہی مل رہی ہے۔‘‘

علاوہ ازیں، بودا پیسٹ میں نیٹو کی جارجیا کمیٹی نے بھی پہلی بار ملاقات کی۔ واضح رہے کہ یہ کمیٹی اگست میں شروع ہونے والے قفقاز تنازعے کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ اس ملاقات میں جارجیا کی فوج کی تشکیل نو پر بات چیت ہوئی۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاب دے ہوپ سخیفر نے کہا : ’’کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے میں یہ واضح کر دوں کہ ہم جارجیا کو کسی طرح کے ہتھیار فراہم نہیں کریں گے۔ لیکن ہم جارجیا کو رہنمائی اور مشورہ دیں گے جب وہ اپنی ترجیحات کا فیصلہ کر لے گا۔ ‘‘ نیٹو کے وزرا اگلے سال فروری میں پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں ہونے والے اجلاس میں ان تمام فیصلوں پر نظر ثانی کریں گے۔


DW.COM