1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں مغوی بنائی گئی آسٹریلوی امدادی کارکن رہا

کینبرا حکومت نے تصدیق کی ہے کہ چار ماہ قبل افغانستان میں اغوا کی جانے والی ایک آسٹریلوی امدادی کارکن کو آزاد کروا لیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ خاتون محفوظ اور بہتر حالت میں ہے۔

پیر کے روز آسٹریلوی وزیرخارجہ جولی بشپ نے بتایا کہ کیتھرین جین ولسن نامی یہ خاتون، جسے رواں برس اپریل میں اغوا کر لیا گیا تھا، اب آزاد کروا لی گئی ہیں۔

یہ 60 سالہ امدادی خاتون، جو کیتھرین کی بجائے کیری کا نام استعمال کرتی ہیں، پاکستانی سرحد کے قریب واقع افغان شہر جلال آباد سے اسلحے کے زور پر اغوا کر لی گئی تھیں۔ وہ افغانستان میں خواتین کے لیے سلائی کڑھائی کے ایک پروجیکٹ کے دورے کے لیے افغانستان گئی تھیں۔ ننگر ہار صوبے کے دارالحکومت جلال آباد میں کیتھرین جین وِلسن کے اغوا کا واقعہ اپریل کے آخر میں پیش آیا تھا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس امدادی کارکن کو ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم مسلح افراد نے علی الصبح اغوا کیا تھا، جب کہ یہ مسلح افراد پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے۔

پیر کے روز جولی بشپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’میں تصدیق کرتی ہوں کہ کیری جین وِلسن، جنہیں افغانستان میں رواں برس اپریل میں اغوا کر لیا گیا تھا، اب آزاد اور محفوظ ہیں اور ان کی صحت بھی اچھی ہے۔‘‘

Julie Bishop Porträt

امدادی خاتون کی رہائی کی تصدیق جولی بشپ نے کی

جولی بشپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کا ملک کسی بھی اغواکار کو تاوان ادا نہیں کرتا۔ بشپ نے اپنے بیان میں کیری جین وِلسن اور ان کے اہل خانہ کے لیے راحت کا اظہار کیا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ مغوی امدادی کارکن کی رہائی کس طرح ممکن ہوئی۔

اپنے بیان میں بشپ نے مزید کہا، ’’میں دلی طور پر افغانستان میں ان تمام حکام کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جن کے تعاون سے کیری جین وِلسن کی رہائی ممکن ہو پائی۔ میں افغانستان میں آسٹریلوی سفارتی عملے کی بھی مشکور ہوں، جو وِلسن اور ان کے اہل خانہ سے مسلسل تعاون کر رہا ہے۔‘‘

یہ بات اہم ہےکہ وِلسن ایک امدادی تنظیم چلاتی ہیں، جس کا نام زردوزی ہے اور یہ فلاحی تنظیم افغان فن کاروں، خصوصاﹰ خواتین کے ہنر کو منظرِعام پر لاتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عسکریت پسندوں کے لیے غیرملکی امدادی کارکنوں کے خلاف ایسی کارروائیاں کرنا قدرے آسان ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں غیرملکی امدادی کارکنوں اور مقامی امیر افراد کے اغوا کے واقعات میں خاصی تیزی دیکھی گئی ہے، جس کا مقصد عموماﹰ تاوان کی رقوم کا حصول ہوتا ہے۔