1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں مزید امریکی فوجی قبول نہیں، حکمت یار

افغانستان کے ایک متنازعہ جنگی سردار گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

افغان دارالحکومت کابل میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغانستان کو ایک طاقتور صدر کی قیادت میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کی ضرورت ہے۔

فضول، بے معنی اور غیر مقدس جنگ ختم کریں، حکمت یار

خونریز خانہ جنگی کے دو عشروں بعد حکمت یار کی کابل واپسی

نوے کی دہائی میں افغان دارالحکومت میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے تناظر میں بین الاقوامی پریس میں ’کابل کے قصائی‘ کے نام سے پکارے جانے والے سابق افغان وزیر اعظم حکمت یار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں استحکام صرف انتخابات کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔

حکمت یار بیس برس جلا وطنی میں گزارنے کے بعد پہلی مرتبہ ایک ایسی پریس کانفرنس میں شریک تھے، جہاں غیر ملکی صحافی بھی موجود تھے۔ دو مرتبہ افغانستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے اس افغان جنگجو کی واپسی کابل حکومت کے ساتھ ایک متنازعہ معاہدے کے بعد رواں برس اپریل میں ہوئی تھی۔

حکمت یار نے یہ بھی کہا کہ اُن کی تنظیم حزبِ اسلامی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تا کہ افغانستان میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔

حکمت یار نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کے ممکنہ فیصلے کے بارے میں کہ وہ ایسا کر کے غلطی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’’موجودہ جنگ غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر کے نہیں جیتی جا سکتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی افغانستان کی مدد کرے اور غیر ملکیوں سمیت پڑوسی ممالک کو (افغانستان کے معاملات میں) مداخلت کرنے سے روکا جائے۔‘‘

ان دنوں افغانستان میں قریب ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، چھ برس قبل امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔

حکمت یار اور کابل حکومت کے مابین معاہدے کو سیاسی طور پر افغان صدر اشرف غنی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم انہیں عدالتی استثنیٰ فراہم کیے جانے پر کابل کے رہائشی اور انسانی حقوق کے ادارے تنقید بھی کر رہے ہیں۔

اسی کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والا جنگجو سردار حکمت یار سن 1996 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد ملک چھوڑ گئے تھے۔ گمان کیا جاتا ہے کہ خود ساختہ جلا وطنی کے زمانے میں وہ پاکستان یا ایران میں روپوش تھے، تاہم ان کی جماعت کا اصرار ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران مسلسل افغانستان ہی میں موجود تھے۔

افغانستان: حکمت یار غیر ملکی فوجی انخلا کی شرط سے دستبردار

افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین امن معاہدہ

 

DW.COM