1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں مختصر وقفوں سے تین بم دھماکے، کم از کم 20 ہلاک

افغان دارالحکومت کابل میں ایک جنازے کے دوران ہونے والے بم حملوں میں بیس ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق درجنوں زخمی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

افغان ذرائع کے مطابق جس جنازے کے دوران بم حملے ہوئے ہیں، وہ سینیٹ کے اول نائب اسپیکر کے بیٹے محمد سالم ایز دیار کا تھا۔ سالم جمعہ دو جون کو ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔ اس جنازے میں کابل حکومت کے کئی اہم اہلکار شریک تھے۔

افغانستان: ہلاکت خيز حملے کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاکتيں

کابل حملے کے بعد انگلی حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کی طرف

کابل حملے میں چار سو سے زائد افراد ہلاک یا زخمی

افغان سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے کہ جنازے کے دوران ہونے والے دھماکے خودکش حملہ آوروں کی کارروائی تھی یا یہ پہلے سے نصب کیے گئے تھے۔ کابل حکام نے اس مناسبت سے بم دھماکے کے مقام کی کڑی نگرانی شروع کردی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے تفتیشی عمل میں فرانزک ماہرین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب افغان وزارت داخلہ نے ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی ہے۔ ان دھماکوں میں درجنوں زخمی ہیں اور کئی کی حالت انتہائی نازک بتائی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد ابھی ابتدائی ہے اور اس میں اضافہ ممکن ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان دارالحکومت کی سلامتی کی صورت حال انتہائی مخدوش ہو کر رہ گئی ہے اور ایک انتشار اور افراتفری کی کیفیت محسوس کی جاتی ہے۔

محمد سالم ایز دیار کے جنازے میں ایک ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔ وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نے اس کی تصدیق کی ہے کہ جنازے کے وقت قبرستان میں تین زوردار بم دھماکے ہوئے تھے۔ جمعہ دو جون کو بدھ کے روز ہونے والے ٹرک بم حملے کے بعد عوامی مظاہرے میں لوگ حکومت سے سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آج ہفتہ تین جون کو بھی کابل میں حکومت مخالف مظاہروں کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

سینکڑوں مظاہرین نے دو بڑے خیموں کے نیچے شب بسر کی۔ یہ خیمے صدارتی محل کے قریب نصب تھے۔ آج ہفتے کے روز بھی کابل میں ویرانی کا راج رہا اور سڑکوں پر بھی گاڑیوں کی آمد و رفت کم رہی۔

DW.COM