1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں قیام امن اور پاکستانی فوج کا ممکنہ کردار

افغانستان سےغیر ملکی افواج کے انخلاء کا وقت قریب آتے ہی پاکستانی فوج کی کوشش شروع ہو گئی ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے بناتے ہوئے، وہاں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرے۔

default

ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے لیکن اب ان دونوں ہمسایہ ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ اس کی ایک اہم مثال گزشتہ ہفتے ہی کابل حکومت کی طرف سے یہ اعلان بھی تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی معاونت حاصل کرے گی۔

اگرچہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار کافی اہم سمجھا جاتا رہا ہے تاہم اب باقاعدہ طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ موقع دے دیا گیا ہے کہ کابل حکومت اور طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وہ کلیدی کردار ادا کرے۔

پاکستانی فوج اور طالبان کے مابین باہمی روابط پر شاید ہی کسی کو شک ہو۔ ناقدین کے مطابق یہ تعلقات کافی پرانے ہیں اور اسی لیے ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کے موجودہ دس سالہ تنازعہ کے حل کے لیے پاکستان کا مثبت کردار ناگزیر ہے۔ پاکستانی حکام نے خود کئی بار کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاکستانی افواج کے سربراہ اشفاق کیانی

دوسری طرف بھارت سے تعلق رکھنے والے خارجہ امور کے ایک ماہر، سی راجہ موہن کے خیال میں حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اچھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حامد کرزئی افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد اپنی بقاء کے لیے پاکستان کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔

راجہ موہن نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’کرزئی افغانستان سے امریکی افواج کے واپس چلے جانے کے بعد اپنے سیاسی کیریئر پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہیں پاکستانی فوج نے اپنی مدد کی پیشکش بھی کی ہے اور بقول موہن کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے کابل حکومت کے طالبان کے ساتھ روابط کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

دوسری طرف کئی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات اس وقت بہتر ہو جاتے ہیں، جب امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات میں کچھ تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت ریمنڈ ڈیوس سے متعلق واقعے اور ڈرون حملوں کے باعث نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری پائی جا رہی ہے بلکہ دوسری طرف خود افغان صدر حامد کرزئی اور واشنگٹن حکومت کے دوطرفہ تعلقات بھی ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی دیکھنا یہ باقی ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد طالبان کا موقف کیا ہوتا ہے اور پاکستانی خفیہ ادارے افغانستان میں قیام امن کے لیے کیا حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM