1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں قدم جمانے کے لیے بھارتی کوششیں

حال ہی میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے افغانستان کو تعمیر نو کی مد میں ایک بار پھر 500 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ 2001ء سے لے کر اب تک بھارت افغانستان کو 2 ارب ڈالر دے چکا ہے۔

من موہن سنگھ اور حامد کرزئی

من موہن سنگھ اور حامد کرزئی

اس سال مئی میں بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے افغانستان کا دورہ کیا۔ اس دورے میں ہر پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بات کہی کہ بھارت افغانستان کو ایک پرامن، مستحکم اور جمہوری ملک کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی افغانستان اور بھارت کی پرانی سٹریٹیجک دوستی کا بار بار ذکر کیا۔ ہسپتالوں، سڑکوں، پلوں، ان سب کی تعمیر نو میں بھارت کی مدد شامل ہے۔ لیکن ان سب کے پیچھے بھارت کا اپنا ذاتی مقصد بھی ہے۔

1947ء میں اپنی آزادی کے تھوڑے عرصے بعد ہی بھارت نےافغانستان کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ وہ باقاعدگی سے سٹریٹیجک معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ صلاح و مشورے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔جب سرد جنگ کے دور میں افغانستان سوویت یونین کے قریب چلا گیا تو بھارت کے لیے یہ بات اطمینان کا باعث تھی۔ لیکن جب سوویت یونین کے دستے افغانستان میں داخل ہوئے اور 1979ء سے لے کر 1989ء تک یہاں جنگ رہی، تو افغانستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی منفی اثرات پڑے۔ اس کے باوجود بھارت افغانستان میں صنعت اور توانائی کے منصوبوں پر کافی زیادہ سرمایہ کاری کرتا رہا۔ 1990ء میں جب طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا، تو بھارت کا اثر و رسوخ کافی حد تک ختم ہو گیا۔ بھارت کو اس بات کا ڈر تھا کہ افغانستان کہیں پاکستان کے حد سے زیادہ قریب نہ چلا جائے کیونکہ سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی مدد سے مجاہدین کا ساتھ دیا تھا۔ یہ افواہیں گرم ہیں کہ آئی ایس آئی اب بھی طالبان کی مدد کر رہی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ کرشنا نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پورے جنوبی ایشیا کے لیے زہر بن سکتی ہیں

بھارت کے وزیر خارجہ کرشنا نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پورے جنوبی ایشیا کے لیے زہر بن سکتی ہیں

10سال پہلے طالبان کی حکومت ختم ہوتے ہی بھارت اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے۔ افغانستان کے کافی زیادہ دانشور اور سیاستدان بھارت میں تعلیم کے سلسلےمیں مقیم رہےتھے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی 1978ء سے 1983ء تک شملہ کی ہماچل پردیش یونیورسٹی میں سیاست کے طالبعلم رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھارتی فلمیں بھی افغانستان میں کافی مقبول ہیں۔

افغانستان بھارت کے لیے بھی ایک اور حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ نومبر 2008ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں دہشت پسندانہ حملوں کے بعد سے لوگ ابھی تک اس خوف سے با ہر نہیں نکل سکے ہیں۔ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ ممبئی حملوں میں ملوث کچھ دہشت گردوں کی ٹریننگ افغانستان میں ہوئی تھی۔ ممبئی حملوں کو ایک طرح سے انڈیا کا نائن الیون بھی کہا جاتا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ کرشنا نے جون 2011ء میں شنگھائی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پورے جنوبی ایشیا کے لیے زہر بن سکتی ہیں۔

حال ہی میں بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں اس کی دلچسپی اس کے لیے کافی مددگار ہو سکتی ہے۔ بھارت دنیا کی دیگر طاقتوں کے ساتھ مل کر افغانستان کی تعمیر نو کرنا چاہتا ہے اور ایشیا میں تنازعات کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ: راحل بیگ ⁄ سائرہ ذوالفقار

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس