1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں غیر ملکی فوجی: ہلاکتیں دو ہزار سے زیادہ

2001 ء میں افغانستان کی جنگ شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ اب تک افغانستان متعینہ غیر ملکی فوجی ہلاکتوں کی کُل تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

default

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

ہلاک ہونے والے ان فوجیوں میں سے 60 فیصد کا تعلق امریکہ سے تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان کی جنگ میں ہلاک ہونے والے شہریوں سے متعلق جو رپورٹ منظر عام پر آئی، اُس سے پتہ چلا ہے کہ اب تک افغانستان میں ملکی یا غیر ملکی فوجیوں سے کہیں زیادہ ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوئی ہیں۔ غیر ملکی فوجیوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں میں کمی کے دعووں کے باوجود اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق شہریوں کی ہلاکتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران افغانستان میں کم از کم ایک امریکی، ایک برطانوی اور ایک آسٹریلوی فوجی کی ہلاکت کے بعد 2001 ء سے اب تک وہاں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی کُل تعداد دو ہزار دو ہو گئی ہے۔ یہ تعداد عراق کی سات سالہ جنگ کے دوران وہاں ہونے والی غیر ملکی فوجی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کا نصف بنتی ہے۔

NO FLASH Angriff auf die Tanklaster in Kunduz

گزشتہ برس قندوز میں آئل ٹینکر پر جرمن فوج کے ایک کرنل کے حکم پر ہونے والے حملے میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے

افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی تفتیش کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے: طالبان

دریں اثناء طالبان نے افغانستان کی جنگ میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے بارے میں تفتیشی کارروائیوں میں بین الاقوامی دستوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اشارہ دیا ہے۔ طالبان کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے، جو افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلی چھان بین کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تفتیشی کارروائیوں میں طالبان کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے اور نیٹو فورسز، اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں کو بھی۔

افغانستان کی جنگ کے نویں سال کے اختتام تک اس ملک میں اکثر شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار طالبان عسکریت پسندوں ہی کو ٹھہرایا جا تا ہے۔ ان جان لیوا واقعات میں زیادہ تر طالبان کے خود کُش بم حملوں اور سڑکوں کے کنارے نصب بموں کے پھٹنے سے عام شہری ہی مارے جاتے ہیں۔

USA Russland Abrüstung Barack Obama Pressekonferenz

باراک اوباما دسمبر میں اپنی پاکستان پالیسی پر نظر ثانی کریں گے

امریکی صدر باراک اوباما نے نومبر میں امریکہ میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی الیکشن کے بعد دسمبر میں اپنی افغان پالیسی پر نظر ثانی کا وعدہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کو صدر اوباما کی افغان پالیسی کے ضمن میں شدید مخالفت کا سامنا ہے، جس کی وجہ اس بارے میں عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات ہیں۔ اُدھر افغانستان میں 18 ستمبر کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوگا، جن کے بارے میں اندرون اور بیرون ملک خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ایک سال قبل افغانستان کے صدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ افغان صدر حامد کرزئی پر مغربی دنیا پر انحصار ختم کرنے کے سلسلے میں اندرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک لاکھ 50 ہزار غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی میں اب تک ملک میں تشدد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کے غلبے والے جنوبی اور مشرقی صوبوں سے پھیلتے پھیلتے تشدد کی آگ اب شمالی اور مغربی صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

Jahresrückblick 2009 Hamid Karzai

2009 ء کے صدارتی انتخاب کے بعد سے حامد کرزئی کی مقبولیت تیزی سے کم ہوئی ہے

افغانستان متعینہ نیٹو اور امریکی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ افغانستان مشن میں کامیابی کے آثار دیکھ رہے ہیں تاہم اُن کے مطابق جولائی 2011 ء سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے آغاز کے بارے میں صدر باراک اوباما کی طرف سے طے شدہ اہداف کا دارومدار اُس وقت کی صورتحال پر ہوگا۔ اتوار کو امریکی ٹیلی وژن چینل این بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جنرل پیٹریاس نے طالبان کے ساتھ جنگ کو ’’اونچ نیچ کا ایک مسلسل عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ’’کامیابی کے بارے میں اندازے لگانا قبل از وقت ہوگا۔‘‘ انہوں نے تاہم کہا کہ کچھ چیزوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہیں اکٹھا کر کے مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال رواں کی پہلی ششماہی کے دوران افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں گزشتہ برس کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 31 فیصد اضافہ ہوا اور ہلاک شدگان میں سے 55 فیصد بچے تھے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس