1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے والوں کی نئی مشکل

شورش زدہ افغانستان میں غیر ملکی افواج، سفارتی عملے اور امدادی اداروں کے لیے کام کرنے والے متعدد مقامی شہری غیر ملکی فوج کے انخلاء کے پس منظر میں ایک نئی تشویش میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

default

واشنگٹن حکومت نے ایسے افغان شہریوں کے لیے امریکی ویزوں کے آسان فراہمی کا وعدہ کیا تھا، جن کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہو مگر فی الحال اس پروگرام پر عملدرآمد انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس پروگرام کے سلسلے میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد نے ویزے کی درخواست جمع کروا رکھی ہے۔ ان میں سے اب تک صرف 48 افراد کو اُن کی درخواست مسترد کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے اور محض ایک درخواست گزار کو انٹرویو کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں میں سے بیشتر کو خدشہ ہے کہ طالبان عسکریت پسند انہیں غدار سمجھتے ہیں اور جیسے ہی غیر ملکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان کو موقع ملا وہ اِنہیں ہدف بنائیں گے۔ گزشتہ دو سالوں سے امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے لیے کام کرنے والے محمد ظاہر مشتاق نے بتایا، ’’ اگر مجھے اس پروگرام کے سلسلے میں مثبت اشارے نہیں ملے تو میں اپنی جان کو خطرے میں گِھرا دیکھتا ہوں، میں فی الحال نہیں جانتا کہ 2014ء کے بعد میرے پاس کیا مواقع حاصل ہوں گے۔‘‘ محمد ظاہر مشتاق نے گزشتہ سات ماہ سے امریکی ویزے کے لیے درخواست جمع کر وا رکھی ہے۔

امریکی فوج کے لیے مترجم کا کام کرنے والے مقامی افراد کو پہلے ہی سے کئی طرز کے خطرات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ہی ایک افغان فوجی نے فائرنگ کرکے تین غیر ملکی فوجیوں کے بشمول اُن کے ایک مترجم کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں غیر ملکی فوج اور ان کے لیے کام کرنے والے مقامی افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Flash-Galerie Friedhof Afghanistan

افغانستان میں گزشتہ قریب چار دہائیوں سے بد امنی میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں

روئٹرز کے مطابق کئی افراد کے گھروں میں رات کے وقت دھمکی آمیز خطوط ڈالے جاچکے ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے کام کرنا چھوڑ دیں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ ایسے ہی ایک مقامی ترجمان کا حوالہ دیتے ہوے روئٹرز نے بتایا کہ اِس شخص نے غیر ملکی فوج کے ساتھ قریب سات سال تک مترجم کی حیثیت سے کام کیا اور گزشتہ دو سال سے اُسے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس شخص نے بتایا کہ امریکی ویزے کے لیے اس کی درخواست کا فی الحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اُس جیسے کئی افراد نے موت کے مُنہ میں بیٹھ کر امریکی فوج کے ساتھ کام کیا اور اب اگر اس مشکل گھڑی میں امریکیوں نے ساتھ نہیں دیا تو وہ اسے دغا بازی سمجھیں گے۔

امریکی سفارتخانے سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ سالانہ بنیادوں پر قریب 15 سو ویزے جاری کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ سفارتخانے کے مطابق زیادہ سے زیادہ انسانی وسائل کو کام میں لاتے ہوئے 2013ء تک قریب 7500 ویزے جاری کر دیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 15 سو افغان شہری بد امنی کی نذر ہوچکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM