1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ؟

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں بتدریج شدت آرہی ہے۔ اس بات کا اعتراف خود امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی کیا۔

default

بھاری ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجو افغان صوبے قندہار میں

افغانستان میں نیٹو کے 65 ہزار فوجی اہلکار طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن میں سے 31 ہزار امریکی ہیں۔ اس مغربی فوجی اتحاد میں آٹھ ہزار سے زائد فوجیوں کے ساتھ برطانیہ دوسرے نمبر پر ہے۔

لیکن پھر بھی اس لڑائی کا یہ پہلو حیرت انگیز ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغان سرزمین پر لڑائی میں ہلاک والے فوجیوں میں زیادہ تر برطانوی فوجی تھے۔

Afghanistan Kabul Soldaten Patrouille Kandahar

قندہار کی سڑکوں پر نیٹو اور افغان فورسز مشترکہ طور پر گشت کرتے ہوئے

افغانستان میں 2001 سے طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی میں 40 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ اس عرصے میں فوجی ہلاکتوں میں امریکہ پہلے اور برطانیہ دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں امریکہ کے مقابلے میں برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تقریبا آٹھ سال سے جاری اس لڑائی میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 133 ہے جبکہ اس عرصے میں 629 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

47 برطانوی فوجی صرف 2007 میں ہلاک ہوئے جبکہ امریکی اور برطانوی فوجی ذرائع کے مطابق نومبر کے آغاز سے افغانستان میں تین امریکی فوجیوں کے مقابلے میں 12 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے مزاحمتی کارروائیوں میں بتدریج شدت آرہی ہے۔ اس بات کا اعتراف خود امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی کیا ہے۔

Ausschnitt George W. Bush bei Interview im Irak von Journalisten mit Schuh beworfen Schuhwurf

عراق کے حالیہ دورے پر صدر بُش کو اُس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک عراقی صحافی نے اچانک اُن پر جوتوں سے وار کیا

اپنے حالیہ دورہ افغانستان میں انہوں نے کہا کہ طالبان، افغان عوام پر مظالم ڈھاتے رہے ہیں اور ان کے خلاف پیش رفت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ " میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ طالبان کا خاتمہ ہو گیا ہے، میں نے تو صرف یہ کہا کہ انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا ہے۔"

افغانستان میں نیٹو افواج کے ترجمان کے مطابق طالبان عسکریت پسند لڑائی میں نئے نئے ‌حربے استعمال کر رہے ہیں لیکن برطانوی فوجیوں کے ہلاکتوں میں اضافے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔

برطانوی بحریہ کے کیپٹن مارک ونڈسر کا کہنا ہے: "گزشتہ چند ہفتوں سے برطانوی فوجی دشمن کے ساتھ سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس طرح دشمن سے سامنا تو ہوگا ہی۔ یہ برا وقت رہا ہے۔‘‘

برطانوی فوج پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ افغانستان میں وہ اچھی بکتر بند گاڑیاں استعمال نہیں کر رہے۔ تاہم ریٹائرڈ برطانوی کمانڈر کرنل باب اسٹیورٹ کے مطابق برطانوی فوج کو آبادی والے علاقے میں جانا پڑے تو خطرہ زیادہ ہی رہے گا۔

DW.COM