1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں طالبان مخالف ملیشیا میں اضافہ، عدم استحکام کے خدشات بھی

افغانستان میں حکومت طالبان مخالف عسکری گروہوں کو شہہ دے رہی ہے، تاکہ طالبان کے حملوں سے بچا جا سکے، تاہم ان گروہوں کی طاقت میں مسلسل اضافے سے ملک کے عدم استحکام کے شکار ہو جانے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان سے غیرملکی فوجوں کی بڑی تعداد کے انخلا کے بعد طالبان کے حملوں اور افغان فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کابل حکومت طالبان مخالف عسکری گروہوں کو سامنے لا رہی ہے، تاکہ طالبان کے حملوں سے بچا جا سکے۔

رواں برس طالبان کے حملوں میں افغان فورسز کو ریکارڈ ہلاکتوں کا سامنا رہا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ طالبان مخالف عسکری گروہوں کے ذریعے سلامتی کے خطرات کو، عارضی بنیادوں پر ہی سہی، کسی طرح کم کیا جائے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی میں بھی ایسے ہی مسلح گروہوں کے درمیان شروع ہو جانے والی مسلح چپقلش سے فائدہ اٹھا کر طالبان افغانستان پر قبضے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ایسے ہی عسکری گروپوں کی باہمی اختلافات کے باعث افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا تھا اور انجام کار ملک پر ریاستی گرفت قائم کرنا قابو سے باہر ہو گیا تھا۔

ایک ملیشیا کمانڈر نعیم کے مطابق بقا کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔  یہ ملیشیا کمانڈر اپنے گروپ کے ساتھ فریاب صوبے کے پشتون اکثریتی ضلعے کوٹ میں دو سو عسکریت پسندوں کے ساتھ متحرک ہے۔

Afghanistan Kundus Sicherheitskräfte Kämpfer

قندوز پر طالبان کے قبضے کے بعد بڑا عسکری آپریشن کیا گیا تھا

اس علاقے میں اس گروہ کے عسکریت پسند گھوڑوں پر سوار اور ہاتھوں میں خودکار ہتھیار لیے گشت کرتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کوٹ ضلع کے قریب واقعے گاؤں جمشیدی کے پاس ہی واقع پہاڑی سلسلے میں طالبان گھات لگا کر متعدد حملے کر چکے ہیں اور اب یہ گروہ اس علاقے میں طالبان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

نعیم کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت کے بغیر طالبان کو اس ضلع پر کنٹرول سے باز رکھنا ممکن نہیں۔ نعیم کے مطابق اگر ان کا گروپ موجود نہ ہو تو طالبان کے لیے اس ضلع پر قبضہ چند منٹوں کا کھیل ہو گا اور یہاں مقامی دیہاتیوں کا قتل عام شروع ہو جائے گا۔ ’’ہمارے بغیر فریاب بھی قندوز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ رواں برس ستمبر میں طالبان نے شمالی شہر قندوز پر کچھ دن کے لیے قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں افغان فورسز نے امریکی فضائی مدد کے ساتھ اس شہر کو طالبان کے قبضے سے چھڑایا تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ عسکریت پسندوں کو اس حد تک بڑی کامیابی ملی، تاہم اس سے افغان فورسز کی صلاحیت اور حربی استطاعت پر بھی کئی طرح کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

فریاب صوبے میں بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے تناظر میں اب تک قریب پانچ ہزار مسلح جنگجو پہرے داری میں مصروف ہیں، جب کہ افغان سیاست دانوں کا خیال ہے کہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔ کابل حکام کا کہنا ہے کہ صرف مقامی ملیشیا گروہوں کے ساتھ ہی طالبان کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ گروہ بہت زیادہ مضبوط ہو گئے، تو ان کے درمیان باہمی جھگڑے شروع ہو گئے تو کابل کا کمزور حکومتی ڈھانچہ کیوں کر ان جھگڑوں سے نمٹ سکے گی؟