1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف امریکی کارروائی کے آغاز کے پانچ سال

امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اسی سال واشنگٹن نے افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف جو فوجی کارروائی شروع کی تھی ، آج سات اکتوبر کے روز اس کے ٹھیک پانچ سال پورے ہو گئے ۔

قندھار میں ایک امریکی جنرل وہاں اپنے ہم وطن سپاہیوں سے ملاقات کرتے ہوئے

قندھار میں ایک امریکی جنرل وہاں اپنے ہم وطن سپاہیوں سے ملاقات کرتے ہوئے

امریکی فوج نے افغانستان میں یہ جنگ بظاہر تو بہت جلد ہی جیت لی تھی مگر طالبان کے زوال، شمالی اتحاد کی کامیابی ، کابل میں نئی حکومت کے قیام اور پھر ملکی سطح پر انتخابات کے انعقاد کے بھی کافی عرصے بعد یہ جنگ پوری طرح آج تک نہیں جیتی جا سکی۔

افغانستان میںصدر حامد کرزئی کی قیادت میں کام کرنے والی حکومت کا اثرورسوخ زیادہ تر صرف دارلحکومت کابل تک ہی محدود ہے اورملک میں جگہ جگہ بدامنی نظر آتی ہے، خاص کر مشرقی اور جنوبی افغانستان میں ۔ گذشتہ کئی مہینوں کے دوران وہاں طالبان عسکریت پسندوں کے خونریز حملوںمیں بھی واضح اضافہ ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل اس ریاست میں نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی حفاظتی فوج ISAF کی عمل داری کو پہلی مرتبہ پورے ملک تک پھیلا دیا گیا اور لگتا یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ٹھیک پانچ سال پہلے وعدہ کردہ امن اور آزادی کے اہداف حاصل کرنے میں ابھی مزید کئی یا پھرکم ازکم چند سال لگیں گے۔