1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں اور پرتشدد واقعات

طالبان باغیوں نے افغان صوبہ لوگر کے دارلحکومت پل عالم میں پولیس ہیڈ کوارٹرز اور الیکشن کمیشن کے ایک دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم ازکم پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات شہری ہلاک ہو گئے۔

default

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے طالبان باغیوں کو ایک خطرناک دشمن قرار دیا ہے۔

طالبان باغیوں نے افغان صوبہ لوگر کے دارلحکومت پل عالم میں پولیس ہیڈ کوارٹرز اور الیکشن کمیشن کے ایک دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم ازکم پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات شہری ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے برقعے پہن رکھے تھے۔ یہ تازہ ترین حملہ اس وقت ہوا ہے جب افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد میں صرف دس دن باقی رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف منگل کے روز افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے طالبان باغیوں کو ایک خطرناک دشمن قرار دیا ہے۔

صوبہ لوگر کے گورنر کے ترجمان دین محمد درویش نے بتایا ہےکہ صوبائی دارالحکومت میں حملہ آوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔ اس دوران بدستور فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اورطالبان کے حملوں کا نشانہ بننے والی سرکاری عمارتوں پر دھوئیں کے بادل چھائے رہے۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے صحافیوں نے بتایا کہ اس لڑائی میں سیکیورٹی اہلکاروں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی جبکہ حملہ آوروں نے ایک عمارت میں پناہ لے رکھی تھی جہاں سے وہ راکٹ حملے اور فائرنگ کر رہے تھے۔ دین محمد درویش نے صحافیوں کو بتایا کہ دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو سرکاری عمارتوں کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا جبکہ چار دیگر حملہ آور، ایک سرکاری عمارت میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بعد ازاں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی عسکری کارروائی کے بعد ہلاک کر دیا گیا۔

طالبان کے ترجمان زیبی اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ اُن کے چھ ساتھیوں نے پل عالم میں واقع پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایک الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے۔

طالبان باغی خبردار کر چکے ہیں کہ وہ 20 اگست کے صدارتی انتخابات کو سبوتاژ کریں گے۔ دریں اثنا ء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں کے دوران شہری ووٹ ڈالنے سے کترائیں گے جس سےانتخابات کا متاثر ہونا یقینی امر ہے۔ اسی دوران امریکہ اور برطانیہ نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Dr Abdullah Abdullah

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی ایک اہم امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں

صدارتی انتخابات کے امیدوار اور موجودہ صدر حامد کرزئی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا ہے کہ وہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں طالبان باغیوں کے ساتھ باقاعدہ مکالمت کا راستہ اختیار کریں گے جبکہ طالبان اپنے دیرینہ مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ جب تک غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہو جاتا وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

افغانستان میں کل 35 صدارتی امیدوار میدان میں اتر رہے ہیں تاہم حامد کرزئی ان میں طاقت ور ترین امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکومتی فنڈ کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ حامد کرزئی ان انتخابات میں مطلوبہ پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ متوقع ہے۔ اس سروے میں مجموعی طور پر حامد کرزئی کو 45 فیصد جبکہ ان کے اہم حریف عبداللہ عبداللہ کو 25 فیصد حمایت ملی ہے۔ اگر بیس اگست کے صدارتی انتخابات میں کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو برتری حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہو گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گل