1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں سکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی، منصوبے کا اعلان آج

افغان صدر حامد کرزئی سکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی کے عمل کے مجوزہ پلان کے پہلے مرحلے کا اعلان آج کریں گے۔ ان کے اعلان میں وہ شہر شامل ہوں گے، جہاں مقامی سکیورٹی غیر ملکی افواج سے ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

default

افغانستان میں حامد کرزئی کے اعلان سے اس عمل کا آغاز ہو جائے، جس کے تحت نیٹو کی متعين آئی سیف (ISAF) فوج سے امن و سلامتی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی اہلکاروں کو منتقل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ یہ عمل سن 2014 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ اعلان حامد کرزئی کی حکومت کے لیے خوش آئند ہو سکتا ہے، لیکن افغان سیاسی صورت حال کے تجزیہ کار مجموعی داخلی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان سکیورٹی کے افسران بھی وسائل کی کمیابی اور ناکافی تربیت پر تحفظات رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی شہرت کے سکیورٹی امور سے متعلق تھنک ٹینک، انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریوں کی منتقلی کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ جس انداز میں افغانستان کے طول وعرض میں پرتشدد کارروائیوں میں رفتہ رفتہ شدت پیدا ہو رہی ہے، اس باعث کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز انتہاپسند طالبان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں حکومتی سطح پر ایک جامع اور مربوط سکیورٹی پلان کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ افغان فوج اور پولیس منقسم ہونے کے علاوہ مخصوص سیاسی وابستگیاں رکھتی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز میں تقسیم اور سیاسی مفادات سے گہری قربت انجام کار امن و سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی کے پلان پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

NATO Gipfel Portugal Lissabon November 2010

افغان صدر حامد کرزئی

افغانستان میں امن و سلامتی کی ذمہ داریاں غیر ملکی افواج سے افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے کی ابتداء امکانی طور پر بڑے شہروں سے کی جائے گی۔ بعد میں چھوٹے بڑے قصبے اور دیہات بھی شامل کردیے جائیں گے۔ کابل حکومت کے مجوزہ پلان کے تحت نسبتاً پرامن مقامات پر افغان فورسز تمام معاملات کی نگرانی اس سال جولائی سے سنبھالنا شروع کردیں گی اور اس عمل میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ کابل حکومت کے پلان کے مطابق سکیورٹی کی منتقلی کا عمل وسطی صوبے بامیان سے شروع ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی صوبے پنج شیر میں بھی مقامی سکیورٹی کو قانون کے نفاذ اور نظم ونسق کے کنٹرول کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔ لغمان اور کابل صوبوں کے کچھ حصوں پر بھی مقامی سکیورٹی کو جولائی کے بعد تعینات کیا جا سکتا ہے۔ شمال میں مزارِ شریف اور مغرب میں ہرات صوبوں کے بعض شہروں اور قصبوں پر افغان سکیورٹی فورسز لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔

افغان حکومت کی یہ بھی خواہش ہے کہ جولائی میں طالبان کے گڑھ اور شورش زدہ صوبے ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ کوبھی افغان سکیورٹی کی تحویل میں دینے کے بعد اسے شہر کے اندرونی امن اور نظم نسق کا نگران بنا دیا جائے۔ کابل حکومت کی اس خواہش کے حوالے سے فوجی ماہرین تحفظات رکھتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس