1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں خود کش حملہ، خفیہ ادارے کے نائب سربراہ ہلاک

مشرقی افغان صوبے لغمان کی ایک مسجد کے باہر ہونے والے خود کش بم حملے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے نائب سربراہ سمیت 23 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

default

جائے واقعہ پر ایک امریکی فوجی پوزیشن سنبھالے کھڑا ہے

افغان حکام کے مطابق عبداللہ لغمانی حامد کرزئی کی حکومت میں اہم ترین حکومتی عہدیداروں میں سے ایک شمار کئے جاتے تھے۔ عبداللہ لغمانی ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی کے ڈپٹی ہیڈ تھے۔ طالبان عسکریت پسندوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ تنظیم نے اس بم حملے کے لئے ایک خودکش بمبار کو بھیجا تھا۔

افغان صونے لغمان کے گورنر کے ترجمان سید احمد صوفی نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 بتائی ہے۔ صوفی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دو سینئر صوبائی حکومتی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

عسکریت پسندوں کی جانب سے یہ بم حملہ کابل سے مشرق کی جانب تقریبا ساٹھ میل کے فاصلے پر صوبائی دارالحکومت مہتر لام کی ایک مسجد کے قریب کیا گیا۔

صوبے ہلمند میں عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی اور برطانوی فوجی دستوں کےآپریشن کے بعد افغانستان میں پرتشدد واقعات میں گزشتہ کچھ عرصے میں انتہائی تیزی دیکھی گئی ہے۔

Afghanistan Anschlag in Mehterlam

حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

افغان صوبے ہلمند میں حالیہ آپریشن امریکی صدر باراک اوباما کی افغانستان کے حوالے سے نئی پالیسی کا حصہ ہے۔ واشنگٹن کی نئی پالیسی میں افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر کے طالبان کو مکمل شکست سے دوچار کرنا اور افغانستان کو مستحکم کرنا شامل ہے۔ اسی لئے واشنگٹن کی جانب سے رواں برس افغانستان میں کئی ہزار اضافی فوجی بھیجے جا چکے ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔

2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے اگست کا مہینہ افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج کے لئے اب تک کا سب سے خونریز مہینہ رہا۔ اس مہینے ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 77 بتائی جا رہی ہے۔ جولائی کے مہینے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 76 تھی۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر نظر رکھنے والی ایک غیر جانبدار ویب سائٹ کے مطابق رواں برس اب تک کا سب سے خونریز سال رہا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق رواں برس اب تک ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 309 ہے۔

بیس اگست کو افغانستان میں صدارتی انتخابات کے روز بھی طالبان نے کئی مقامات پر حملے کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ دوسری جانب ان انتخابات میں اب تک سامنے آنے والے غیر حتمی ابتدائی نتائج کے مطابق موجودہ صدر کرزئی کو سابق وزیر خارجہ اور اہم صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ پر گو کہ برتری حاصل ہے تاہم یہ برتری واضح نہیں۔ اس لئے امکانات ہیں کہ اکتوبر میں صدارتی انتخابات کا دوسرا دور ہوگا۔ ایسے موقع پر افغانستان میں انتخابات کے دوسرے ممکنہ مرحلے اور سیکیورٹی کی خستہ صورتحال کو ملک کی سالمیت اور استحکام کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجدعلی