1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں خود کش بم حملہ، 37 افراد ہلاک

شمالی افغانستان میں فوجی بھرتی کے ایک مرکز پر خودکش حملے کے نتیجے میں کم ازکم 37 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

صوبہ قندوز کے گورنر کے ترجمان محبوب اللہ سیدی کا کہنا ہے کہ قندوز شہر میں فوجی بھرتی کے ایک مرکز کے قریب ایک خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ابتدائی معلومات کے مطابق اس حملے میں 37 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد ایسے نوجوان رضاکاروں کی ہے، جو فوج میں بھرتی ہونا چاہتے تھے۔

Afghanistan Verletzete in Kundus nach NATO Luftangriff

ابتدائی معلومات کے مطابق اس حملے میں 37 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوئے ہیں

اس حملے سے چار روز قبل قندوز میں صوبائی پولیس کے سربراہ عبدالرحمان سید کو ان کے چار ساتھیوں سمیت ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ طالبان نے پولیس کے صوبائی سربراہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

قندوز کے نائب گورنر حماداللہ دانشی کا کہنا ہے کہ دھماکہ پیر کو بعد دوپہر فوجی مرکز کے باہر اس جگہ ہوا، جہاں رضاکار نوجوان فوج میں بھرتی کے لیے لائن لگائے کھڑے تھے۔ قندوز میں ایک صوبائی ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایمبولینس اور پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعے زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں نے 37 لاشوں کو ہسپتال لائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ ہمایوں خاموش نامی ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران صوبہ قندوز اور افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی افواج پر طالبان کے حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں ایک لاکھ پچاس ہزار بین الاقوامی فوجی تعینات ہیں۔ گزشتہ برس افغانستان میں 2001ء کے بعد سے اب تک ہونے والی پر تشدد کارروائیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM