1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں خودکش حملے میں چھ نیٹو فوجی ہلاک

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ایک بیان میں افغانستان میں ایک خودکش بم حملے میں اپنے چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ پیر کے روز یہ خودکش حملہ امریکا کی زیرنگرانی چلنے والے بگرام فضائی اڈے کے قریب پیش آیا۔

امریکی فوج کے برگیڈیئرجنرل وِلیم شوفنر نے بتایا کہ افغان دارالحکومت کابل میں بھی ایک حملے میں نیٹو کے تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ پیر کے روز افغانستان میں نیٹو کو معاون مشن کے عوامی رابطے کے شعبے کے سربراہ شوفنر نے تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والے نیٹو فوجیوں کی شہریت ظاہر نہیں کی۔ نیٹو کی پالیسی کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت سے متعلق بیان ان اہلکاروں کے آبائی ممالک کرتے ہیں۔

شوفنر کا کہنا تھا کہ بگرام فوجی اڈے پر خودکش حملہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے کیا گیا۔ بگرام فوجی اڈا افغانستان میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈا ہے۔

ان دونوں حملوں کی ذمے داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ رواں برس اگست سے اب تک افغانستان میں غیرملکی فوجیوں پر ہونے والا یہ سب سے خون ریز حملہ ہے۔

Afghanistan Kämpfe in der Prozinz Helmand

ہلمند صوبے ایک ضلعے میں بھی حکومتی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے

ایک افغان حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ بگرام فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں دیگر دو غیرملکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

پروان صوبہ، جہاں بگرام فوجی اڈا قائم ہے، کے گورنر محمد عاصم عاصم نے بتایا کہ خودکش بمبار نے دھماکا خیز مواد سے لدی موٹرسائیکل کے ذریعے بگرام فوجی اڈے کے ایک نواحی گاؤں میں پیدل گشت کرنے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ عاصم نے بتایا کہ اس واقعے میں دو افغان پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

22 اگست کو ایک نیٹو فوجی قافلے پر حملے کے بعد یہ سب سے خون ریز واقعہ تھا۔ کابل میں پیش آنے والے اُس واقعے میں تین امریکی کنٹریکٹرز ہلاک ہو گئے تھے۔ اگست کی سات اور آٹھ تاریخ کو طالبان کے حملوں میں 35 افرا مارے تھے، جن میں سے ایک میں کابل کے مضافات میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کا ایک اڈا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اِس واقعے میں آٹھ افغان سویلین کنٹریکٹرز بھی مارے تھے۔

پیر کے روز کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب جنوبی صوبے ہلمند کے ایک ضلعے پر قبضے کے لیے طالبان حکومتی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔