1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں حکومتی ناانصافیاں، طالبان کے حق میں

ایک تھنک ٹینک کے مطابق افغان حکام اور بین الاقوامی کمیونٹی کی نا انصافیاں، طالبان کی سر پرستی میں ہونے والی بغاوتوں کو ہوا دے رہی ہیں جو شدت پسندوں کے خلاف اپنائی جانے والی حکمت عملی کے لئے سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہیں۔

default

بنیادی طور پر لندن سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک Chatham House نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح طاقتور لوگوں کی جانب سے زمین ہتھیانے، سیاسی سطح پر حریف قبائل کو اہمیت نہ دینے اور ظالمانہ نظر بندیوں جیسے اقدامات سے عام افغانوں کو اس بات کی شہ مل رہی ہے کہ وہ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

یہ رپورٹ امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے افغانستان میں جنگی حکمت عملی پر غور کرنے کے لئے بلائی جانے والی میٹنگ سے قبل جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے طویل المدتی حکمت عملی بناتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔

Einnahme Kabuls durch die Nordallianz November 2001

رپورٹ کے مطابق مقامی حکام کی جانب سے افغانستان میں نا انصافیاں عروج پر ہیں

امریکی صدر اوباما کی جانب سے افغانستان میں رواں سال 30 ہزار سے زائد مزید فوجی تعینات کیے گئے ہیں جس کے بعد افغانستان میں متعین افواج کی مجموعی تعداد 150 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی سب سے زیادہ کارروائیوں کے شکار صوبے ہلمند اور قندھار میں بڑھتی ہوئی بغاوت یا عسکریت پسند سرگرمیوں کی ایک بڑی وجہ نا انصافی ہی ہے۔ مقامی حکومت کے حکام کی جانب سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی اور طاقت کا غلط استعمال بھی طالبان کو بغاوت بڑھانے میں مدد دے رہا ہے۔

Lashkar-e-Taiba Afghanistan Taliban

مقامی حکام کی کمزوریاں طلبان کو مضبوط بنا رہی ہیں

اس کی مثال پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں طالبان کے ایک حمایتی کا بیان درج کیا گیا ہے۔ اس گمنام انٹر ویو میں اس نے بتایا کہ ملک کے مرکزی صوبے واردک میں ضلعی پولیس چیف کی سرپرستی میں پولیس اہلکار مقامی لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار مچائے ہوئے ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اس لوٹ مار کی وجہ سے وہاں کے مقامی لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ سب ایک گروہ کی صورت میں پولیس چیف کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے طالبان نے فائدہ اٹھایا جس کی وجہ اس ضلعے کے لوگ طالبان کی حمایت کرنے لگے ہیں۔

اسی طرح حکومت کے سینیئر حکام پر یہ الزام بھی عائد ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کے لئے بنائے گئے قانون کو نظر انداز کرنے کے علاوہ منشیات فروشوں، جرائم پیشہ افراد اور طالبان کمانڈروں کو بھی صدارتی معافی نامے جاری کرتے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM