1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں حتمی معرکے کی تیاریاں

افغانستان میں طالبان کے خلاف حتمی نوعیت کی کارروائی کے لئے غیر ملکی فوج کمر بستہ ہوچکی ہے۔ جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج کی تعداد ، اس سے زیادہ ہو چکی ہے جتنا کہ عراق پر حملے کے وقت تھی۔

default

2003ء میں عراق پر حملے کے وقت امریکی افواج کی تعداد بانوے ہزار تھی جبکہ اب افغانستان میں موجود امریکی افواج کی تعداد چورانوے ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما رواں سال اگست تک عراق سے مزید چالیس ہزار فوج واپس بلاکر اگلے سال تک اس خلیجی ملک سے مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ اوباما انتظامیہ ہی کی پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد ایک لاکھ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ افغانستان میں امریکہ کے اتحادیوں کے بھی لگ بھگ سینتالیس ہزار فوجی، اس نو سالہ جنگ میں شریک ہیں۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور بین الاقوامی سلامتی کی معاون فورس ’ایساف‘ کے تحت افغانستان میں غیر ملکی فوج کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

Soldaten der der ISAF-Truppe bei einer Trauerfeier zum Abschied ihrer gefallenen Kameraden NO-FLASH

گزشتہ ماہ مارے گئے چار جرمن فوجیوں کی لاشیں قندوز سے جرمنی منتقل کئے جاتے وقت منعقدہ تعزیتی تقریب کا منظر

جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں ’’آپریشن مشترک‘‘ کے بعد اب افغان اور اتحادی افواج قندہار میں بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ قندہار ، افغانستان میں طالبان کا مضبوط ترین گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کا آبائی علاقہ ہے۔ ان دنوں قندھار کی شہری اور افغانستان کی مرکزی حکومت علاقے میں فوجی کارروائی کے لئے عوامی حمایت کے حصول میں مصروف ہیں۔

ادھر شمالی صوبے قندوز کے ضلع چار درہ میں ایک اسی نوعیت کا آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ قندوز کے پولیس سربراہ رزاق یعقوبی کے بقول کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے امکان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ قندوز میں ساڑھے چار ہزار جرمن فوجی بھی تعینات ہیں۔

طالبان نے رواں موسم سرما میں غیر ملکیوں اور ملکی ارکان پارلیمان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ یاد رہے کہ جنگ زدہ ملک میں بدامنی کے سبب سب سے زیادہ ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوئی ہیں، جس کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

2001ء کے امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے اگرچہ 2009ء غیر ملکی فوج کے لئے ہلاکت خیز ترین رہا تھا تاہم حالیہ برس بھی خاصا خونریز ثابت ہورہا ہے۔ گزشہ سال بھر میں 520 جبکہ رواں سال اب تک 217 غیر ملکی فوجی افغانستان میں مارے جاچکے ہیں۔

مشرقی افغانستان میں منگل کے دن دو غیر ملک اس سلسلے کی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔ ان میں ایک کا تعلق کینیڈا سے بتایا گیا ہے جبکہ دوسرے کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

Hamid Karsai NO FLASH

افغان صدر قندہار کا دورہ کرکے آپریشن کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں

اس جنگ میں مارے جانے والے لگ بھگ اٹھارہ سو غیر ملکی فوجیوں میں سے ایک ہزار اکیاسی امریکی، دو سو چھیاسی برطانوی اور ایک سو چھیالیس کینیڈا کے تھے۔

شورش زدہ ملک میں قیام امن کے لئے افغان صدر حامد کرزئی کی طالبان سے مصالحت کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ کرزئی کی انتظامیہ رواں سال ہی روایتی جرگہ منعقد کرنے کی تیاریوں میں ہیں، جس میں طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی دعوت دیں گے اور قومی و قبائلی عمائدین ا سے ان کی رائے لی جائے گی۔

افغان سیکیورٹی دستے بھی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے حتی الامکان کوششوں میں جتے ہوئے ہیں۔ حکام نے دارالحکومت کابل میں گزشتہ ہفتے ہوئے خودکش دھماکوں میں ملوث عسکریت پسندوں کے گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق عیدی گل نامی مبینہ عسکریت اور اس کے چھ دیگر گرفتار ساتھی کابل میں مزید خون خرابے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM