1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں جنگ، مذاکرات اور تعمیر کی امریکی پالیسی

امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ اگلے برس موسم بہار میں طالبان باغیوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر بحال کیا جاسکے گا۔ ذرائع کے بقول افغان صدر حامد کرزئی کے اعتراضات کے سبب یہ رابطے وقتی طور پر منقطع ہوگئے تھے۔

default

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو امریکی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ افغانستان میں ’’جنگ، مذاکرات اور تعمیر‘‘ کی پالیسی کا نفاذ ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی میں وقفہ نہیں آئےگا۔ طالبان سے رابطوں کے سلسلے میں پہلے شورش زدہ افغانستان کے اندر فائر بندی والے کچھ زونز کے قیام کو ممکن بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ کامیابی کی صورت میں یہ زونز مکمل جنگ بندی کے لیے اہم ہوں سکتے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ) اور صدارتی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق امریکہ طالبان کے ایک گروہ کو صحیح خیال کرتے ہوئے اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

معاملے کی حساسیت کے پیش نظر امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اگلے سال یورپ اور خلیجی ممالک میں خفیہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ امریکی حکام کے مطابق اعتماد سازی کے لیے طالبان کے ایک نمائندہ دفتر کا قیام اور گوانتا نامو بے جیل میں قید طالبان کے پانچ مشتبہ رہنماؤں کی رہائی پر غور ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں طالبان رہنما خیر اللہ خیر خواہ اور مُلا محمد فضل کے نام بھی لیے جارہے ہیں۔ جواب میں طالبان سے القاعدہ کے ساتھ رابطے ترک کرنے اور افغان حکومت کو تسلیم کرنے کی ضمانت مانگی جارہی ہے۔

Taliban legen Waffen nieder

ہرات میں مزاحمت ترک کردینے والے سابق طالبان جنگجوو

جنگ زدہ افغانستان میں رواں سال اب تک 565 غیر ملکی فوجی مارے گئے ہیں جبکہ محض ابتدائی چھ ماہ میں قریب 15 سو شہری بدامنی کے سبب موت کے منہ میں چلے گئے۔ جنوبی افغانستان میں جمعے کے روز سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے واقعات میں مغربی دفاعی اتحاد کے دو فوجی مارے گئے۔ اسی روز چار عام شہری بھی بم دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے پس منظر میں اہمیت دی جارہی ہے۔

مبصرین کے مطابق تین سال بعد بیشتر غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء سے قبل امریکی قیادت کی کوشش ہے کہ عسکریت پسندوں کو مزاحمت ترک کرنے پر تیار کیا جاسکے۔ طالبان سے رابطوں کے سلسلے میں امریکہ کو افغان صدر حامد کرزئی اور ان کی انتظامیہ کا تعاون بھی اہم ہے۔ صدر کرزئی کی خواہش ہے کہ گوانتا نامو بے جیل سے رہائی کے بعد طالبان رہنماوں کو کسی غیر ملک کے بجائے افغانستان آنے دیا جائے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اگلے سال مئی میں نیٹو سمٹ کے میزبان ہیں اور اس موقع پر افغانستان سے متعلق کسی اہم اعلان کی توقع کی جارہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM