1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں جرمن فوجیوں کے کردار، ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

افغانستان میں جرمن فوجیوں کی موجودگی اور وہاں ان کے کردار پر جرمنی میں بحث اپنے عروج پر ہے۔ چند روز قبل پروٹسٹنٹ کلیسا کی جانب سے اس حوالے سے شدید تنقیدی بیان سامنے آئے۔ اس بارے میں ژورگ فِنز کا تحریر کردہ تبصرہ:

default

دراصل جرمنی کے پروٹسٹنٹ چرچ کی کونسل کی نو منتخب سربراہ اور ہنوور سے تعلق رکھنے والی خاتون بشپ مارگوٹ کیسمن کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف جرمن حکومت کی موجودہ افغانستان پالیسی پر سوال اٹھایا ہے بلکہ اس امر پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ افغانستان کی جنگ کی منطق سے اب تک تو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کیسمن کے نئے سال کے خطبے نے وفاقی جرمن ذرائع ابلاغ کو بھی سن 2010 ء کے آغاز میں ہی یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اس بارے میں غور و خوض کرے کہ جرمن معاشرے میں چرچ اور بشپ کے عہدے کے فرائض کیا ہیں۔

zu Guttenberg zu Besuch Afghanistan Truppen Soldaten

جرمن وزیر دفاع سو گوٹن برگ

اس ملک میں ریاست، صوبوں اور مختلف برادریوں کے سیاسی نمائندے اس بات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ ان کے سیاسی منصوبوں اور سرگرمیوں کو کس حد تک کلیسائی تائید حاصل ہے اور ان سیاسی نمائندوں کو جب پالیسی سازی میں چرچ کی طرف سے ان کی توقعات کے مطابق حمایت نہیں ملتی، یا ان کے کسی پروجیکٹ پر کلیسا کی طرف سے سوال اٹھایا جاتا ہے، تو سیاستدان بری طرح چڑ جاتے ہیں اور مشتعل ہو جاتے ہیں۔

غالباً گزشتہ سالوں کے دوران عوامی سطح پر اس موضوع پر بہت کم بحث ہوئی کہ جرمنی میں چرچ حکومت کا ایک ناقد ساتھی ہے۔ عہد نامہ قدیم یا تورات کی روایات کے مطابق پیغمبروں کو خدا کی طرف سے یہ فرائض سونپے گئے تھے کہ وہ روز مرہ زندگی اور عوام کے مسائل پر سوال اٹھائیں۔ بیواؤں، یتیموں، بیماروں اور ناتواں انسانوں کی مدد کریں۔ انہیں امن اور سلامتی مہیا کریں۔

Guttenberg zu Besuch bei den Truppen Afghanistan

قندوز حملے کے بعد سے اس حوالے سے بحث میں شدت آئی ہے

ہمارے معاشرے میں کلیسا کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ارباب اقتدارکے فیصلوں کی منطق اور فوج کی سرگرمیوں کی معقولیت کے بارے میں سوال جواب کرے۔ چرچ نہ تو خوشحال معاشروں کو ذائقہ داراشیاء فراہم کرنے اور نہ ہی سیاست کو چمکانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اب وہ دور بھی گیا جس میں جنگوں اور مسلح جھڑپوں میں چرچ ساتھ دیا کرتا تھا۔ کوئی اب اُس دور میں واپس جانا نہیں چاہتا۔ ایسے میں جب جرمنی کے موجودہ وزیر دفاع اپنے پیشرو کے برخلاف افغانستان کے ضمن میں بارہا جنگ اور لڑائی کی بات کریں گے تو یہ خیال کہ افغانستان مغربی جمہوری معیار اور طرز کا ایک جدید ملک بن سکتا ہے، خواب و خیال معلوم ہوتا ہے۔ ان خیالات کی جھلک کسی حد تک مارگوٹ کیسمن کے نئے سال کے خطبے میں پائی جاتی تھی۔ یا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ جرمن معاشرہ ایک بار پھر مردانگی کی نمائش کرنے والے یعنی ’ماچو‘ رویے کا حامل ہو جائے۔

مطلب یہ کہ یہ تصور کہ ’عورت کو چرچ تک محدود رہنا چاہئے کیونکہ وہ کچن اچھا چلا سکتی ہے اور اپنے خاندان کی دیکھ بھال کا کام بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے، دوبارہ سے غالب آ جائے۔ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ شاید نئے سال کے دوران جرمنی کے پروٹسٹنٹ چرچ کی کونسل کی نو منتخب سربراہ مارگوٹ کیسمن پر یہ تمام امور واضح ہوجائیں۔

تبصرہ : ژورگ فِنز / ترجمہ : کشور مصطفیٰ

ادارت : مقبول ملک