1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں تعینات جرمن افواج کی تعداد میں اضافے کی منظوری

چانسلر میرکل کی کابینہ نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں مزید ایک ہزار اضافے کی منظوری کے ساتھ اپنے مشن کو افغانستان میں مزید چودہ ماہ تک کی توسیع کر دی ہے۔ اب افغانستان میں جرمن افواج کی تعداد 4500 ہو سکے گی۔

default

جرمن وفاقی چانسلر اینگلا میرکل کی کابینہ نے افغانستان میں اپنے مشن کی توسیع کی منظوری تو دے دی ہے لیکن اس پر حتمی فیصلہ رواں ماہ کے آخر تک سامنے آ جائے گا۔ جرمن مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی اس پی ڈی کے مابین افغانستان میں جرمن فوج کی تعیناتی میں توسیع سے متعلق نئے مینڈیٹ پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ اب اس فیصلے کو ایوان زیریں میں منظور کرنا صرف ایک تکلف ہی ہوگا۔

واضح رہے کہ کابینہ نے اس مشن میں چودہ ماہ تک کے لئے توسیع کی منظوری دی ہے اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات ہونا طے ہیں جس میں کے بعد اس فیصلے کے بارے میں نظر ثانی کی جا سکےگی۔

افغانستان میں اس وقت تقریبا تینتیس سو جرمن فوجی تعینات ہیں جو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی International Security Assistance Force آئی ایس اے ایف کی زیر نگرانی افغانستان میں تعیمر نو اور بحالی کے کام میں مشغول ہیں۔ تاہم نیٹو کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباو کہ جرمن حکومت افغستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرے، آخر کار جرمنی نے فیصلہ کیا کہ افغانستان میں جرمن مشن کی تعداد میں ایک ہزار تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جرمن پارلیمان کے موجودہ ضابطوں کے مطابق افغانستان میں پینتیس سو جرمن فوجی بھیجےجا سکتے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت نیٹو اتحادی افواج کے چالیس مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریبا ترپن ہزار فوجی طالبان باغیوں کے خلاف عسکری کارروائی میں مصروف ہیں۔ اور اس تعداد میں تقریبا تئیس ہزار پانچ سو فوجیوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔

دوسری طرف امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں اتحادی افواج کو بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے مگر یہ ہر گز نہیں سوچنا چاہئے کہ افغانستان میں طالبان باغیوں کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔ رابرٹ گیٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب افغانستان متعین برطانوی افواج کے سربراہ برگیڈیئر مارک کارلیٹن اسمتھ نے کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج حتمی فتح حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔ برطانوی کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ طالبان کو بالآخر مستقبل میں افغانستان کے اقتدار میں شامل کرنا پڑے گا۔