1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں تعمیر نو کا عمل متاثر نہیں ہو گا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ مزار شریف میں ان کے کارکنوں کی ہلاکت کے باوجود افغانستان کی تعمیر نو کا عمل اور امدادی کام متاثر نہیں ہوں گے۔

default

مزار شریف میں یو این کا متاثرہ دفتر

امریکہ میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس کی زد میں آ کر پہلے مزار شریف متعین یو این کے ساتھ کام کرنے والے غیر ملکی رضا کار اپنی جان گنوا بیٹھے۔ پھر اسی سلسلے میں ہفتہ کو قندھار میں دس عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ آج اتوار کو قندھار ہی میں مزید دو پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

جنگ زدہ افغانستان کے لیے یو این کے خصوصی نمائندے Staffan de Mistura نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا، ’’ ان واقعات سے افغانستان جیسے حساس ملک میں اس نازک موقع پر اقوام متحدہ کی موجودگی اور کاموں پر اثر نہیں پڑے گا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ مزار شریف میں یو این کی نذرآتش شدہ عمارت سے زندہ بچ جانے والے غیر ملکیوں کو کابل منتقل کیا جارہا ہے۔

Fazel Ahmad Manawi

Staffan de Mistura ایک افغان عہدیدار کے ہمراہ

ان کا کہنا ہے کہ یہ وہاں سے مستقل انخلاء نہیں بلکہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ میں قرآن کے نذر آتش کیے جانے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

de Mistura نے مزار شریف میں پولیس کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں خون خرابے میں ملوث عناصر بیرون شہر سےپہنچے تھے۔ واضح رہے کہ اس ہنگامے کے دوران لگ بھگ تین ہزار مظاہرین جمعہ کی نماز کے بعد یو این کے کمپاؤنڈ کے باہر جمع ہوئے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان میں سے دس یا پندرہ مسلح تھے جنہوں نے غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جارہی ہے تاہم ان کے ایک ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔

مزار شریف میں مارے جانے والے یورپی شہریوں میں 33 سالہ سویڈش شہری Joakim Dungel ، ناروے کی 53 سالہ خاتون پائلٹ لیفٹنٹ کرنل Siri Skare اور رومانیہ کا ایک شہری شامل ہیں۔ مرنے والوں میں نیپال کے چار شہری بھی شامل ہیں جو کمپاؤنڈ میں سکیورٹی گارڈز کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

Kanadische Soldaten in Afghanistan

تین دہائیوں سے بدامنی کا شکار افغانستان بڑی حد تک رضا کار اداروں پر انحصار کرتا ہے

اقوام متحدہ کے ایک روسی اہلکار نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے اور مقامی زبان میں گفتگو کرکے اپنی جان بچائی تھی۔

دریں اثنا قندھار میں تازہ مظاہروں سے متعلق بتایا جارہا ہے کہ زخمی ہونے والے کم از کم 16 افراد میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو گولیاں اور پتھر لگے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان زلمئی ایوبی کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM