1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں تشدد، مہاجرت کا سب سے بڑا سبب

افغانستان میں آئے روز رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں افغان باشندے اپنے ملک کو خیرباد کہہ کر وہاں سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں۔ وہاں مہاجرت اختیار کرنے والے ایسے افراد کی تعداد میں ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

افغانستان میں 2001ء میں طالبان کی جابرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں امن کی توقع کی جا رہی تھی۔ امید تھی کہ افغان مہاجرین وطن واپس لوٹ جائیں گے لیکن حالیہ برسوں کے دوران رونما ہونے والے تازہ تشدد نے اس توقع کے برعکس اس شورش زدہ ملک سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

کابل میں واقع پاسپورٹ دفتر کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں بتاتی ہیں کہ بہت سے لوگ جلد از جلد اپنا پاسپورٹ بنوانے کے بعد جنگ سے تباہ حال اس ملک سے نکلنے کی کوشش میں ہیں۔ اسی طرح افغان باشندے غیر قانونی طور پر بھی ملک سے نکلنے کی کوشش میں بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے یہ انسانوں کے اسمگلروں سے رابطے میں ہوتے ہیں۔

اٹھائیس سالہ افغان شہری اشرف اپنے معذور بھائی کے ساتھ اپنے آبائی ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ غیر قانونی طریقہ اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس کے دوستوں نے اُسے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا ہے، جو انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔

اشرف کابل میں واقع اپنے گھر میں مراد نامی انسانوں کے اس اسمگلر سے ملاقات بھی کی ہے۔ اشرف پہلے بھی دو مرتبہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ناکام ہو چکا ہے، اس لیے وہ اب بہت زیادہ محتاط ہے۔

اشرف نے مراد سے اپنی ملاقات کے دوران اے ایف پی کے ایک نمائندے کو بھی ساتھ بیٹھایا۔ جس میں ان دونوں نے افغانستان سے ایران فرار ہونے کی منصوبہ بندی کی۔

’’مجھے نیمروز (ایران کی سرحد پر واقع افغان علاقے) میں ملو۔‘‘ مراد نے اشرف سے ابتدائی گفتگو کے بعد کام کی بات شروع کرتے ہوئے کہا، ’’تہران تک کا سفر چار یا پانچ دن کا ہے۔ اس سفر میں گاڑی بھی استعمال کی جائے گی اور پیدل بھی چلنا ہو گا۔‘‘

’’لیکن میرا بھائی معذور ہے۔ وہ وہیل چیئر استعمال کرتا ہے۔‘‘ اشرف نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ اس پر مراد کا جواب تھا، ’’تمہیں 2.2 ملین تومان (سات سو امریکی ڈالر) دینا ہوں گے جبکہ تمہارے بھائی کو تین ملین۔۔۔ کیونکہ وہ چل نہیں سکتا ہے۔‘‘

’’اگر ہم پکڑے گئے اور ہمیں واپس افغانستان روانہ کر دیا گیا تو؟ ‘‘ اشرف کی ہیجانی کیفیت نمایاں تھی۔ مراد نے اعتماد کے ساتھ کہا، ’’نہیں، نہیں‘‘

’’مجھے پہلے بھی دو مرتبہ انسانوں کے اسمگلرز ٹھگ چکے ہیں اور نتیجے میں مجھے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔‘‘ تاہم مراد نے اشرف کو تسلی اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا، ’’دیکھو برادر! میں تمیں سو فیصد یقین دلاتا ہوں کہ اس مرتبہ تم ناکام نہیں ہو گے۔‘‘

اشرف نے 2012ء میں آسٹریلیا فرار ہونے کی کوشش تھی۔ تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا تھا۔ سیکورٹی کی مخدوش صورتحال اور چودہ سالہ مسلح بغاوت نے اسے ایک مرتبہ پھر مجبور کیا ہے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر کہیں اور فرار ہو جائے۔ اس مرتبہ وہ ایران جانا چاہتا ہے۔

اسی طرح افغان باشندے عظیم رحیمی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’قندھار میں تقریبا ہر کوئی ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی میں ہے۔ میری خالائیں، کزنز، ہمسائے اور دوست۔‘‘ اڑتالیس سالہ رحیمی تین بچوں کا باپ ہے۔ وہ کابل میں شاہ شہید نامی اس علاقے میں رہتا ہے، جہاں حال ہی میں سلسلہ وار بم حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

رحیمی ملک میں تشدد کے واقعات سے خوفزدہ ہے۔ اسے اپنے کنبے کا بہت زیادہ خیال ہے، ’’کہیں بھی بم دھماکا ہو سکتا ہے۔‘‘ اس کا کہنا ہے کہ وہ خود کو اور اپنے گھر والوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا خواہشمند ہے، جہاں وہ ایک اچھے مستقبل کی امید کر سکیں۔

Ausstellung Fotografie Blaue Frauen Afghanistan

افغان باشندے داخلی سطح پر بھی مہاجرت کا شکار ہیں

افغانستان میں نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد اگرچہ اب بھی وہاں غیر ملکی فوجیوں کی ایک مختصر تعداد موجود ہے، جو افغان فورسز کی تربیت اور مشاورت کا کام کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک کابل حکومت طالبان کی شدت پسندی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ناقدین کے خیال میں افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت ہی انتہا پسندی اور طالبان کی بغاوت کو کچل سکتی ہے۔

افغانستان کے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں جو متحدہ قومی حکومت وجود میں آئی ہے، اس میں اشرف غنی صدراور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائر ہوئے تھے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سیاستدان ایک گاڑی کے دو ڈرائیور ہیں، جو متعدد مقامات پر مختلف سمتوں میں مڑنا چاہتے ہیں۔