1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں تشدد مزید بڑھ گیا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کے حوالے سے صورتحال رواں برس مزید خراب ہوگئی ہے۔

default

اقوام متحدہ کی طرف سے  بدھ کے روز  جاری کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس کی نسبت رواں برس سلامتی سے متعلق واقعات میں 40 فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2011ء کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ہر ماہ سلامتی سے متعلق اوسطاﹰ 2100 واقعات پیش آئے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں  39 فیصد زائد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر واقعات جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں میں پیش آئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق خود کش حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں برس کے دوران سویلین ہلاکتوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم سویلین افراد کی کل ہلاکتوں میں سے تین چوتھائی کی ذمہ داری عسکریت پسندوں پر عائد کی گئی ہے۔

سویلین ہلاکتوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے

سویلین ہلاکتوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے

رپورٹ کے مطابق جون سے اگست کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے سویلین افراد کی تعداد 1841 ہے۔ ان میں سے 282  یعنی 12 فیصد کی ذمہ داری افغان اور غیر ملکی فوج پر عائد کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج کی طرف سے فضائی حملے ان سویلین ہلاکتوں کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ جولائی کے دوران فضائی حملوں میں 38 سویلین افراد ہلاک ہوئے۔

مجموعی طور پر سویلین ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ شدت پسندوں کی طرف سے مقامی طور پر تیار کردہ بموں  کے استعمال اور خودکش حملوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے حملے 45 فیصد ہلاکتوں یا لوگوں کے زخمی ہونے کی وجہ ہیں۔

دوسری طرف نیٹو کی سربراہی میں افغانستان میں متعین بین الاقوامی امدادی افواج ISAF نے ان اعداد وشمار کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ISAF کے ترجمان جِمی کمنگز کے بقول: ’’ابتدائی تجزیے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اس رپورٹ میں پیش کردہ اعداد وشمار ہمارے طرف سے جمع کردہ اعدادوشمار سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘ نیٹو اتحاد کے مطابق وہ آج جمعرات کو اپنے اعداد وشمار جاری کرے گا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM