1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں تشدد ایک نئی انتہا کو چھو سکتا ہے، اقوام متحدہ

افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ایک نئی انتہا کو چھو سکتی ہیں، تاہم میدان جنگ میں افغان فورسز عسکریت پسندوں کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے افغانستان نکولس ہیسم کی جانب سے ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے جنگی مشن کے خاتمے اور زیادہ تر دستوں کے انخلا کے بعد اس وقت سلامتی کی صورت حال ملی جلی ہے۔

پیر 21 جون کو تاہم افغانستان کے دارالحکومت کابل اور شمالی صوبے بدخشاں میں کیے گئے بم حملوں میں 22 افراد کی ہلاک سے افغانستان میں سلامتی کی بری صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے مندوب کے مطابق اب بھی عسکریت پسند طالبان قوقتیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سکیورٹی فورسز کو مفلوج کر دیں۔

ہیسم نے افغانستان میں پرتشدد واقعات اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے میں اس طرز کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Afghanistan Armee

افغان فوجی کے دستے تمام تر دباؤ کے باوجود عسکریت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہیں

مئی کے اختتام سے اب تک متعدد حکومتی اور عدالتی عہدیداروں کو خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ عالمی ادارے کے مندوب کے مطابق رواں برس مئی کے آخر سے اب تک کم از کم دو سو افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔

افغانستان میں چار برس تک اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے طور پر خدمات انجام دینے اور اب اپنے عہدے سے سبک دوش ہونے والے نیکولس ہیسم کے مطابق، ’’خطرہ موجود ہے، میرے خیال میں یہ تنازعہ ایک نئی شکل اختیار کر سکتا ہے اور یہ تشدد اپنی انتہا کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘

اپنی اس تجزیاتی رپورٹ میں انہوں نے تاہم افغانستان میں متعدد شعبوں میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا ذکر بھی کیا، جن میں عوامی شعبے میں زیادہ سرمائے والے منصوبے اور انفراسٹرکچر میں بہتری جیسے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پیش رفت میں تسلسل افغانستان میں جمہوریت کے تسلسل سے وابستہ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سن 2001ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان افغانستان میں اس قدر علاقے پر متحرک ہیں اور خصوصاﹰ جنوبی صوبے ہلمند میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہلمند کے متعدد علاقوں کا کنٹرول عملی طور پر طالبان کے پاس ہے، تاہم وہ اب بھی پورے صوبے پر کنڑول حاصل نہیں کر پائے ہیں اور نہ ہی ان کے قبضے میں اہم سرکاری عمارات ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھاری جانی نقصان اٹھانے والی افغان فورسز تمام دباؤ کے باوجود اپنی کارکردگی میں مسلسل اضافہ دکھا رہی ہیں۔