1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیاں

افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے باوجود بھارتی کمپنیاں افغانستان کے مرکزی ضلع میں خام لوہے کی پیداوار کے لیے اربوں ڈالر کی بولی لگانے کے لیے تیار ہیں۔

default

بھارت کی سرکاری اسٹیل اتھارٹی ’’سیل‘‘ 6 ارب ڈالر تک افغانستان میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے، اس سرمایہ کاری کے منصوبوں میں افغانستان میں خام لوہے کی پیداوار کے لیے سرنگوں تک ریلوے لائنیں بچھانے اور اسٹیل کارخانے کے ایک منصوبے کا علان کیا گیا ہے۔ دنیا کی دو تیزی سے بڑھتی ہوئی معشیتیں اس دوڑ میں شامل ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ چین کو اس بولی سے باہر کر دے۔ اس بولی کے ذریعے بھارت کافی عرصے تک افغانستان کے ساتھ منسلک رہنا چاہتا ہے کیونکہ 2014ء میں امریکی فوج وہاں سے چلی جائے گی۔

بامیان کے صوبے میں واقع حاجی گاک سرنگوں کا معاہدہ، جنگ سے تباہ ہونے والے افغانستان کے لیے واحد بڑی غیرملکی سرمایہ کاری ہے، ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری سے پاک افغان تعلقات بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

Afghanistan Kabul Taliban greifen Regierungsviertel an

افغانستان میں طالبان حملوں کے باوجود بھارت کی اقتصادی دلچسپی

 افغانستان کے ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بولی کے بارے میں جلد آگاہی ہو جائے گی۔ اس بولی میں 6 کمپنیاں سامنے آئی ہیں، جن میں دو بھارتی ہیں اور اگر یہ بولی بھارت کے حصے میں آتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ سرکاری عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ وہ ان خدشات کو مسترد کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اس معاہدے کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت افغانستان کو علاقائی امداد فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے جبکہ بھارت افغانستان میں 2 بلین ڈالر کے منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں پارلیمنٹ عمارت کی نئی بلڈنگ کی تعمیر اور ایران تک ہائی وے سڑک بچھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

افغان حکام 45  روز  بعد بہتر بولی لگانے والے کا نام بتائیں گے، جس میں بھارتی کمپنی ’’سیل‘ کو یہ منصوبہ ملنے کا زیادہ امکان ہے۔ سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اس کا مضبوط امیدوار ہے۔ اس کی ایک وجہ کان کنی میں اس کا تجربہ اور  مالی حثیت بھی ہے۔افغان عہدیدار کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ماضی میں افغانستان کو مالی مدد فراہم کرنے والے ملکوں کو نذر انداز  نہیں کیا جا سکتا۔

 امریکہ کو افغانستان میں اربوں ڈالر کی امداد کے باوجود ایک قابض قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن بھارت اس کے بر عکس افغانستان کے اہم مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں بجلی، تعلیم اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ افغانستان میں بھارتی مفادات کو کئی مرتبہ نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔  2008ء اور 2009ء میں کابل میں بھارتی سفارت خانے پر دو بم دھماکے کیے گئے، جن میں 75 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ افغانستان میں بھارتی انجینئرز کو بھی اغواء کیا گیا تھا اور اس کے علاوہ ان ہاسٹلز پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں بھارتی ورکرز کی رہائش تھی۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد    

DW.COM