1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں بم دھماکہ، ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد ہلاک

جنوبی افغانستان میں آج ہفتہ کے روز سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان ایک منی بس میں سوار تھے کہ ان کی گاڑی اس بم دھماکے کا شکار ہو گئی۔

default

قندھار سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پانچ مردوں، چارخواتین اوردو بچوں پر مشتمل یہ افغان خاندان ممکنہ طور پر پاکستان میں مہاجرین کے طور پر قیام کے بعد واپس افغانستان لوٹ رہا تھا۔ پاک افغان سرحد پار کرنے کے بعد بد امنی کے شکار افغان سرحدی صوبے زابل سے گزرتے ہوئے ان افغان باشندوں کی گاڑی سڑک کے کنارے نصب کیے گئے ایک بم کا نشانہ بن گئی۔ اس علاقے میں افغان طالبان نے اپنی کافی زیادہ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں اور وہ بار بار سرکاری دستوں، غیر ملکی فوجیوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

Afghanistan Bundeswehr nach Anschlag in Kundus

افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں

زابل کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس دھماکے میں دیسی ساخت کا ایک بم استعمال کیا گیا۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔ رسول یار نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے افغان شہری پاکستان سے لوٹنے کے بعد زابل کے راستے افغان صوبے غزنی کی طرف سفر پر تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کی قریب دس سال قبل شروع ہونے والی جنگ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوئی ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر گزشتہ برس یہ تعداد سب سے زیادہ رہی تھی، جو 2777 بنتی تھی۔ اقوام متحدہ کے مئی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ اس سال مارچ کے مہینے کے بعد سے پورے ملک میں خونریزی اور بم حملوں میں پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں اکیاون فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔ ایسے واقعات میں یا دیسی ساخت کے بم استعمال کیے جاتے ہیں یا پھر مسلح تصادم ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔

Afghanistan Bundeswehr nach Anschlag in Kundus

امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی محدود واپسی اسی مہینے شروع کر دے گا

کل جمعہ کے روز بھی جنوبی افغانستان میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے دو مختلف واقعات میں قندھار کے صوبے میں کم از کم چار افراد مارے گئے تھے۔

افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ کے قریب امریکی فوجی ہیں۔ امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی محدود واپسی اسی مہینے شروع کر دے گا۔ صدر باراک اوباما کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے دس ہزار فوجی واپس بلا لیے جائیں گے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس