1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں بدامنی، مغربی حکام کا موقف

امریکی چیئرمین آف دا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈ مرل مائیک مولن نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ’’مِیٹ دا پریس‘‘ پروگرام سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں حالات تیزی سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

default

Mike Mullen

امریکی چیئرمین آف دا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن

افغانستان میں صرف جولائی میں ہی اکٹھے چوالیس امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولن نے کہا کہ اب طالبان زیادہ بہتر اور منظم انداز میں مزاحمت کر رہے ہیں۔

ایڈمرل مائیک مولن نے واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کے اُس نئے مشترکہ سروے کے نتائج کو تشویشناک قرار دیا ہے، جس میں امریکی عوام کی اکثریت نےافغانستان کی جنگ کو بے فائدہ قرار دیا ہے۔

محض ایک چوتھائی نے افغانستان میں مزید امریکی فوجی روانہ کرنے کی حمایت کی ہے۔ سن 2008ء کے اواخر میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بتیس ہزار تھی، جسے امریکی صدر باراک اوباما اِس سال کے آخر تک اڑسٹھ ہزار تک لے جانا چاہتے ہیں۔

اِدھر جرمنی میں پارلیمانی انتخابات ستائیس ستمبر کو ہونے والے ہیں اور انتخابی مہم ان دنوں زوروں پر ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل اور وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر آج کل کی مخلوط حکومت کے ساتھی ہیں جبکہ انتخابات میں ایک دوسرے کے حریف۔ اِس کے باوجود دونوں نے ہی اِس گذرے وِیک اَینڈ یر متفقہ طور پر یہ کہا کہ وہ افغانستان سے جرمن فوجی دَستوں کے انخلاء کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتا سکتے۔

جرمن ٹیلی وژن چینل اے آر ڈی سے باتیں کرتے ہوئے شٹائن مائر نے کہا کہ انتخابات میں اپنی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کی صورت میں وہ جرمن دستوں کے انخلاء کی کوئی ٹھوس تاریخ طے کروانے کی کوشش کریں گے۔ شٹائن مائر نے کہا: ’’ہم بغیر سوچے سمجھے افغانستان میں نہیں گئے۔ اِس کی ایک وجہ تھی، جس کا تعلق گیارہ ستمبر سن 2001ء کے واقعات سے ہے۔ ہم خود کو بچانا چاہتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ہم یہاں جرمنی میں بھی ایسیے ہی حملوں کا نشانہ بنیں۔ تو نہ ہم بغیر سوچے سمجھے وہاں گئے ہیں اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے وہاں سے نکلیں گے۔ لیکن ہمیں نئے افغان صدر کے ساتھ اِس بارے میں بات کرنا ہو گی کہ ہمارا وہاں قیام کتنی دیر کے لئے ہو گا اور ممکنہ طور پر کب اختتام کو پہنچے گا۔‘‘

Bundeskanzlerin Angela Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمنی کےکئی اپوزیشن حلقوں کا اصرار ہے کہ جرمنی کو اپنے دستے واپس بلا لینے چاہییں۔ اِس موضوع پر جرمن ٹی وی چینل زیڈ ڈی ایف سے باتیں کرتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا تھا: ’’ہم اور ہمارے ساتھ ساتھ افغانستان میں گئے سبھی ملک یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم وہاں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ اِسی لئے ہم نے واضح اہداف مقرر کئے ہیں۔ ہمارا نصب العین ایک ایسا افغانستان ہے، جو خود اپنے امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ ہم نے باقاعدہ حساب لگایا ہے کہ ہمیں وہاں کتنے فوجیوں کی ضرورت ہے، پولیس کے کتنے اہلکاروں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلد ہم یہ نصب العین حاصل کریں گے، اُتنی ہی جلد ہم یہ ذمہ داریاں افغان حکومت کے حوالے کر سکیں گے۔‘‘

اِسی دوران افغانستان متعینہ امریکی جنرل کرٹِس سکاپارَوٹی نے دَورے پر گئے خصوصی امریکی مندوب برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہالبروک سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کو طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلے کے لئے نیٹو کو زیادہ فوجی اور سازوسامان فراہم کرنا چاہیے کیونکہ خاص طور پر پاکستان سے ملحقہ مشرقی افغانستان میں فوجی موجودگی بڑھائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM