1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امن کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک

افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی کوآرڈینیشن گروپ کا پانچواں اجلاس بدھ کے دن اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اس اجلاس میں نمائندگی سیکریڑی خارجہ جبکہ افغانستان کی طرف سے کابل کے سفیر نے کی۔

اٹھارہ مئی بروز بدھ اسلام آباد میں افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی کوآرڈینیشن گروپ کے پانچویں اجلاس میں پاکستان کے سیکریڑی خارجہ اعزاز چوہدری نے اجلاس کی میزبانی کی جب کہ افغانستان کی نمائندگی پاکستان کے لیے کابل کے سفیر ڈاکڑ حضرت عمر زکھیوال نے کی۔

DW.COM

امریکا کی طرف سے خصوصی نمائندے برائے پاکستان و افغانستان رچرڈ اولسن اور چین کی طرف سے خصوصی نمائندے برائے افغان امور خارجہ سفارتکار Deng Xijun نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ آج کے اجلاس میں افغانستان کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی جگہ افغان سفیر نے اپنے ملک کی نمائندگی کی، جس کی وجہ سے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔

اجلاس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا، ’’تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ افغانستان کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے اور اس سلسلے میں QCG کے ممالک اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں گے۔ ‘‘

اجلاس نے انیس اپریل کو کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جو ایسے حملے کرتے ہیں، انہیں نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ آئندہ اجلاس کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اجلاس سے ایک دن پہلے افغان حکومت نے یہ کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردی سے متعلق جنگ کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کرتا، تو کابل حکومت اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ اسلام آباد نے کابل کے اس مطالبے کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اٹھارہ مئی بروز بدھ کے اعلامیے میں بھی ان وعدوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ اجلاس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ڈی ڈؓبلیو کو بتایا کہ اجلاس کے حوالے سے بیان جاری کر دیا گیا ہے اور انہیں اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں کہنا۔ لیکن حکومت کے ایک اور اہم وفاقی وزیر نے عالمی برادری سے کئی شکوے کر ڈالے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کے کئی اہم معاشرتی مسائل کا ذمہ دار بھی افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کو قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قبائلی علاقہ جات عبدالقادر بلوچ نے کہا، ’’افغانستان کے امن کے لیے پاکستان نے جو قربانیاں دیں، ان کو عالمی سطح پر سراہا نہیں گیا۔ پاکستان بد قسمتی سے افغان جنگ کا حصہ بنا، جس کی وجہ سے یہ ملک آج کلاشنکوف اور منشیات کی آ ماجگاہ بن گیا ہے۔ ‘‘

Afghanistan Explosion in Kabul

اجلاس نے انیس اپریل کو کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جو ایسے حملے کرتے ہیں، انہیں نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے

قادر بلوچ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم نے اس جنگ میں معاشی اور جانی قربانیاں دیں۔ عالمی برادری نے ان کو سراہنے کے بجائے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا۔ آج افغانستان کے امن کو القاعدہ سے زیادہ داعش سے خطرہ ہے۔ اس لیے پوری دنیا کو داعش کے خلاف اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاکستان میں امن کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے۔ پاکستان افغان طالبان اور افغان حکومت میں مصالحت کے لیے ہر سطح پرتعاون کے لیے کوشاں ہے ۔‘‘

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ یہ کانفرنس بے سود ہے کیونکہ اس میں غیر ملکی افواج کے انخلاء پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔‘‘ایک سوال کے جواب میں اس عسکریت پسند گروہ کے ترجمان نے کہا کہ اس کانفرنس میں غیر ملکی افواج کے انخلاء اور طالبان رہنماوں کے اوپر لگائی گئیں سفری پابندی ختم کرنے جیسے اہم مسائل پر بات چیت ہونا چاہیے تھی۔