1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امریکی مقاصد کے حصول کے لئے ساتھ ہیں: پاکستانی صدر

پاکستانی صدر آصف علی زراری نے امریکہ کو بھر پور یقین دہانی کروائی کہ ان کی حکومت افغانستان میں امریکی مقاصد کی تکمیل میں ساتھ دے گی تاہم زرداری نے امریکہ سے مزید مدد بھی مانگی ہے۔

default

پاکستانی صدر زرداری نے امریکہ سے مزید مالی مدد کی درخواست کی ہے

خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹ نمائندے گیری کوننولی نے بتایا ہے کہ نوے منٹ تک جاری رہنے والی بند کمرہ ملاقات میں آصف علی زرداری نے امریکہ کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کی حکومت پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے لئے سیاسی عزم رکھتے ہیں یا نہیں۔ تاہم زرداری نے امریکی ارکین کانگریس کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے پاس عوامی حمایت ہےاور وہ اندرونی سیکیورٹی خطرات سے بنرد آزما ہو سکتے ہیں۔ زرادی نے تاہم کہا کہ اس حوالے سے ان کی حکومت کو مزید امریکی مالی امداد درکار ہو گی۔

Karsai und Holbrooke

ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان باغیوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدگی دکھائے

دریں اثنا پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی مندوب رچرڈ ہالبروک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں تیزی لائیں۔ ہالبروک نے کانگریس کے سامنے پاکستان اور افغانستان کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ نیٹ ورک امریکہ کے لئے براہ راست خطرہ ہے اور پاکستان کی مدد کے بغیر ان دہشت گردوں سے نمٹنا مشکل ہے۔

ہالبروک نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ملک نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ درپیش ہے۔ تاہم ہالبروک نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے خطرات ضرور لاحق ہیں اورایسے ہی خطرات امریکہ کو بھی درپیش ہیں۔

USA Wahlen Demokraten Barack Obama zu seinem Pastor

صدر بارک اوباما نےحالیہ دنوں میں کہا کہ پاکستانی کی عوامی حکومت نہایت کمزور ہے

ہالبروک نے امریکہ پر زور ڈالا کہ وہ پاکستان کو مجبور کریں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے۔

پاکستانی صدرآصف علی زرداری ، افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی صدر باراک اوباما ،پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی پالیسی میں نظر ثانی کے لئے تین روزہ سمٹ میں شریک ہو رہے ہیں۔ بدھ سے شروع ہونے والی اس سمٹ میں تینوں رہنما دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لئے، پاک افغان تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بھی بات چیت کریں گے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے واشنگٹن میں تھینک ٹینک بروکنگ انسٹیٹیوٹ میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ افغانستان میں اس وقت تک استحکام اور امن پیدا نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان میں طالبان کے مبینہ اڈوں کو تباہ نہیں کر دیا جاتا۔ تاہم کرزئی نے کہا کہ اس سمٹ کے دوران، وہ پاکستان کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کے ساتھ اس مسلے کے حل کے لئے بات چیت کریں گے۔

دونوں ممالک کے سربراہان اُس وقت امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کر رہے جب دونوں ممالک میں ہی طالبان باغیوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سوات وادی میں ممکنہ فوجی کارروائی کے خوف سے ہزاروں مقامی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

Audios and videos on the topic