1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’افغانستان میں امریکی فوج کے قیام میں توسیع اہم ہے‘

امریکا نے افغانستان میں اپنی فوج سن 2016 کے بعد بھی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔

ملکی اداروں کی غیر تسلی بخش کارکردگی اور طالبان کے ایک مرتبہ پھر زور پکڑنے کے تناظر میں افغانستان میں امریکی فوج کے قیام میں توسیع کو مبصرین نے دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ افغان حکومت کے اہم اداروں کی غیر تسلی بخش صورت حال نے ہی طالبان عسکریت پسندوں کو ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے سر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے اور اِس باعث انتہا پسندوں کی عسکری کارروائیوں میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں اشرف غنی اور سوویت یونین دور کے جنگی سردار عبداللہ عبداللہ کی یونٹی حکومت کو قائم ہوئے ایک سال بیت گیا ہے لیکن کئی معاملات میں سیاسی تعطل اور اختلافات کی صورت حال شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ اِس تعطل نے بھی افغان اداروں میں عدم اطمینان اور تقسیم پیدا کی ہے اور یہی تقسیم سارے ملک میں تشدد کی ایسی فضا کو پیدا کرنے کا سبب بنی جو برسوں میں نہیں دیکھی گئی۔ ابھی ایک دو ہفتے قبل شمالی شہر قندوز پر طالبان عسکریت پسندوں کی شورش اور چند روزہ قبضے نے کابل حکومت کے تمام دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی تھی۔

US Soldaten in Afghanistan

شمالی شہر قندوز پر قبضے کی جنگ میں امریکی اور نیٹو فوجی شامل تھے

امریکی صدر باراک اوباما نے فیصلہ کیا ہے کہ سن 2016 کے بعد بھی امریکا کے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار فوجی افغانستان میں تعینات رہیں گے۔ خیال کیا گیا ہے کہ اوباما کے اِس فیصلے سے افغان اہلکاروں اور شہریوں نے سُکھ کا سانس لیا ہے۔ افغانستان کے ایک ریٹائرڈ جنرل عتیق الللہ امرخیل کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اعلان سے افغان فوج کے مورال کو تقویت ملے گی اور اِس فیصلے سے ظاہر ہوا ہے کہ دنیا افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اوباما کے اِس فیصلے سے افغانستان میں طاقت کا توازن کابل حکومت کی جانب جھک جائے گا اور یہ ملکی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

اُدھر افغانستان کے حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے پاکستانی تجزیہ کار احمد رشید کا خیال ہے کہ اوباما کا فیصلہ افغان صورت حال کے تناظر میں کوئی سخت اور مضبوط نہیں ہے کیونکہ وہاں کی سیاسی لیڈر شپ نااہل اور باعنوان ہے۔ رشید نے مزید کہا کہ وہاں کی سیاسی قیادت نے ملکی سلامتی اور ترقی کے کئی سنہری مواقع ضائع کردیے ہیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی احمد ولی مسعود کا کہنا ہے کہ یونٹی حکومت اُس ٹرک جیسی ہے، جس کے دو ڈرائیور ہیں، اس حکومت نے افغانستان کی اتحادی صورت بظاہر سلامت رکھی ہوئی ہے وگرنہ سارا ملک منقسم ہے۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اِسی ہفتے کے دوران اعلان کیا ہے کہ وہ سابقہ سوویت یونین کی جمہوریاؤں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ٹاسک فورس کو تشکیل دے رہا ہے جو افغانستان میں بڑھتے تشدد کے ہمسایہ ملکوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرے گی۔